نئی دہلی: بھارت کے مرکزی بینک (ریزرو بینک آف انڈیا- آر بی آئی) نے بینکوں اور قرض دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان سے بالواسطہ طور پر منتقل ہونے والے فنڈز کی سخت نگرانی کریں، کیونکہ ان کے اسلحے کی خریداری میں استعمال ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق 6 اگست کو جاری کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کی تحقیقات میں یہ خدشہ سامنے آیا کہ کچھ پاکستانی شہریوں نے دوسرے ممالک کے ذریعے بھارت میں رقوم منتقل کیں۔
آر بی آئی نے پاکستان کو اسلحے کی مالی معاونت کے تناظر میں "اعلیٰ خطرے والا دائرہ” قرار دیا، تاہم خط میں اس تحقیقات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ بھارت میں پاکستان سے براہِ راست رقوم کی ترسیل ممنوع ہے اور ہر قسم کی لین دین کے لیے مرکزی بینک کی منظوری ضروری ہے۔
بھارتی بینکوں کو پہلے ہی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، لیکن پاکستان سے متعلق یہ خصوصی ہدایت غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے صدر ظفر مسعود نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قوانین منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے حوالے سے نہایت سخت اور مؤثر ہیں۔
خط میں پاکستان کے ساتھ شمالی کوریا کو بھی "اعلیٰ خطرے والا دائرہ” قرار دیا گیا ہے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔