ماسکو/سان فرانسسکو: روس سے تعلق رکھنے والے یو ایف سی کے سابق چیمپئن خبیب نورماگومیدوف کو صرف پاکستانی کھانے کی طلب میں سستی اکانومی فلائٹ لینا مہنگا پڑ گیا، جب ایک امریکی ایئرلائن نے انہیں جہاز سے اتار دیا۔
ڈچ حکومت کا بڑا اقدام: غزہ صورتحال پر اسرائیلی سفیر طلب، انتہاپسند اسرائیلی وزرا پر داخلے کی پابندی
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں خبیب نے انکشاف کیا کہ وہ صرف سان فرانسسکو میں موجود اپنے پسندیدہ پاکستانی-بھارتی ریسٹورنٹ ’چٹنی‘ سے کھانا کھانے کے لیے اکانومی کلاس کی فلائٹ پر روانہ ہوئے۔ لیکن دورانِ پرواز عملے سے ان کی نشست سے متعلق معمولی تکرار ہوئی، جس کے بعد انہیں جہاز سے اتار دیا گیا۔
خبیب نے بتایا کہ وہ 2012 سے ’چٹنی‘ ریسٹورنٹ جا رہے ہیں، اور یہ ان کا پسندیدہ مقام ہے جہاں وہ ہر دورے پر ضرور کھانا کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریسٹورنٹ رات 9 یا 10 بجے بند ہو جاتا ہے، اس لیے وہ وقت پر پہنچنے کے لیے سستی اور جلد دستیاب فلائٹ پر روانہ ہوئے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق، یہ واقعہ فرنٹیئر ایئرلائنز کی ایک پرواز میں پیش آیا، جہاں خبیب ایگزٹ رو سیٹ پر بیٹھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے عملے کو یقین دلایا کہ وہ زبان سمجھتے ہیں اور ایمرجنسی سیٹ کی ذمہ داری لے سکتے ہیں، لیکن عملے نے ان کی انگریزی کمزور ہونے کا بہانہ بنا کر سیٹ تبدیل کرنے کو کہا۔ انکار پر سیکیورٹی بلائی گئی اور انہیں جہاز سے اتار دیا گیا۔
اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ایئرلائن پر سخت تنقید کی گئی، کچھ نے اسے نسل پرستی قرار دیا۔ تاہم خبیب نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عملے کو صرف بدتمیز کہا اور گزارش کی کہ وہ مسافروں کے ساتھ نرمی سے پیش آیا کریں۔
پوڈکاسٹ میں خبیب نے اعتراف کیا کہ وہ کھانوں کے بے حد شوقین ہیں، اور اگرچہ وہ روایتی داغستانی کھانوں کو پسند کرتے ہیں، مگر غیر ملکی کھانوں میں پاکستانی کھانا ان کا اولین انتخاب ہے۔
یاد رہے کہ خبیب نورماگومیدوف کا تعلق روس کے مسلم اکثریتی علاقے داغستان سے ہے۔ یو ایف سی سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے قزاقستان میں ’M-Eight‘ کے نام سے اپنی فاسٹ فوڈ چین شروع کی، جو اپنے منفرد سینڈوچز اور کھانوں کی وجہ سے مقبول ہو رہی ہے۔