اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس پر عدالتی کارروائی عارضی طور پر رُک گئی، وزیراعظم و کابینہ کو توہین عدالت نوٹس

57 / 100 SEO Score

اسلام آباد: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں عدالتی کارروائی وقتی طور پر رک گئی ہے، رجسٹرار آفس نے فریقین کو نوٹس جاری کرنے کے عمل کو مؤخر کر دیا ہے۔ عدالت نے 21 جولائی کو سماعت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا تھا۔

محسن نقوی: ایشیا کپ شیڈول کا مسئلہ جلد حل ہوگا، بھارتی بورڈ سے رابطے میں ہیں

تاہم رجسٹرار آفس کے ذرائع کے مطابق 21 جولائی کو کیس کاز لسٹ میں شامل ہی نہیں تھا، اس لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ بغیر کاز لسٹ سماعت کے بعد نوٹس کیسے جاری ہو سکتا ہے؟
ذرائع نے کہا کہ:

"مجاز اتھارٹی سے رائے لینے کے بعد ہی نوٹسز جاری کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔”

ذرائع کے مطابق جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے آفس نے 16 جولائی کو 21 جولائی کی سماعت کا نوٹ بھیجا، لیکن اس وقت ہفتہ وار عدالتی روسٹر جاری ہو چکا تھا۔ نئے نوٹ کی روشنی میں ترمیم شدہ کاز لسٹ جاری ہونی تھی، مگر مجاز اتھارٹی سے تاحال جواب نہیں آیا۔

عدالتی برہمی اور ریمارکس:

سماعت کے دوران جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے روسٹر میں رکاوٹ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا:

"ایک بار پھر انتظامی اختیار کو عدالتی اختیار پر فوقیت دی گئی۔”

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو ذاتی سیکرٹری کے ذریعے درخواست بھجوائی گئی، مگر اس پر دستخط کے لیے بھی وقت نہیں دیا گیا۔
معزز جج نے ریمارکس دیے:

"میں انصاف کو شکست نہیں ہونے دوں گا، عدالتی عزت بچانے کے لیے اپنے جوڈیشل اختیارات استعمال کروں گا۔”

کیس کی حیثیت:

عدالت نے واضح کیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کو بھیجے گئے توہین عدالت نوٹسز پر چھٹیوں کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر سماعت ہوگی۔

جسٹس اعجاز اسحاق نے مزید کہا کہ جج عدالت میں چھٹی کے دن بھی انصاف دینے بیٹھنا چاہے تو روکا جاتا ہے، "یہ عدالت ہے، کوئی بیوروکریٹک سیٹ اپ نہیں۔”

پس منظر:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں مطلوبہ رپورٹ پیش نہ کرنے پر وفاقی حکومت کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ حکومت نے عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کی، جس پر وزیراعظم اور کابینہ اراکین سے دو ہفتوں میں وضاحت طلب کی گئی۔


تجزیہ:
یہ معاملہ نہ صرف عدالتی خودمختاری اور انتظامی مداخلت کے درمیان تنازع کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں ریاستی سنجیدگی پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ جسٹس اعجاز اسحاق کی کھلی عدالت میں برہمی اور سخت ریمارکس ظاہر کرتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ میں آزادیِ عمل کے خدشات شدت اختیار کر چکے ہیں۔


میٹا کی ورڈز:
عافیہ صدیقی کیس، توہین عدالت، اسلام آباد ہائیکورٹ، جسٹس سردار اعجاز، شہباز شریف، وفاقی کابینہ، عدالتی اختیارات، رجسٹرار آفس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے