عالمی عدالتِ جرائم برائے بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔ ان کے خلاف یہ مقدمہ گزشتہ سال سے زیرِ سماعت تھا، جس میں شدید نوعیت کے الزامات پر سزا کی استدعا کی گئی تھی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال 15 جولائی سے 5 اگست کے دوران حکومت مخالف احتجاج میں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تقریباً 1400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جو 1971 کی جنگ آزادی کے بعد بدترین سیاسی تشدد تھا۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے برطرف وزیراعظم حسینہ کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر جان لیوا کریک ڈاؤن کا حکم دینے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مقدمے میں ثابت ہوا کہ انہوں نے ریاستی طاقت کا غیرقانونی استعمال کیا۔
الجزیرہ کے مطابق فیصلے میں کہا گیا کہ الزام نمبر ایک کے تحت حسینہ نے لوگوں کو اکسانے والا حکم دے کر اور ضروری اقدامات نہ کر کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی۔ الزام نمبر دو کے مطابق انہوں نے ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور مہلک ہتھیار استعمال کرنے کی منظوری دے کر ایک اور جرمِ انسانیت کا ارتکاب کیا۔
بنگلہ دیش، جو دنیا کے بڑے گارمنٹس برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے، گزشتہ سال کے خونریز احتجاج کے باعث شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوا۔ شیخ حسینہ اگست 2024 میں ملک چھوڑ کر نئی دہلی میں جلاوطنی اختیار کر چکی ہیں، جہاں سے وہ مقدمے کی سماعت میں شرکت سے انکار کرتی رہیں۔
78 سالہ حسینہ نے مقدمے کو ’’قانونی مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے عدالت کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، جبکہ عدالت نے ان کی غیر حاضری میں شواہد سنے۔ ان کے شریک ملزمان، سابق وزیر داخلہ اسدالزمان خان کمال (مفرور) اور پولیس چیف چوہدری عبداللہ المامون، جرم قبول کر چکے ہیں۔
پراسیکیوٹرز نے قتل روکنے میں ناکامی سمیت پانچ سنگین الزامات عائد کیے تھے، جو مقامی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے فیصلے سے قبل کہا تھا کہ ’’انصاف قانون کے مطابق فراہم کیا جائے گا اور یہ فیصلہ جرائمِ انسانی کے خاتمے کی جانب اہم قدم ہوگا۔‘‘
فیصلے کی تاریخ کے اعلان کے بعد ڈھاکہ میں سیکیورٹی انتہائی سخت رہی۔ بکتر بند گاڑیوں اور چیک پوائنٹس کے ذریعے دارالحکومت کی نگرانی کی گئی، جبکہ 17 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات رہے۔
حالیہ ہفتوں میں سرکاری عمارتوں، بسوں اور مسیحی مقامات پر دیسی ساختہ بم حملوں نے سیاسی بے یقینی مزید بڑھا دی ہے۔ وزارت خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ مفرور حسینہ کو ’’نفرت انگیز بیانات‘‘ کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے سے روکا جائے۔
اپنے تازہ بیانات میں حسینہ نے طلبہ پر ہونے والی فائرنگ پر افسوس کا اظہار تو کیا، تاہم مخالفین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اقتدار بچانے کے لیے بے رحمانہ طرزِ عمل اختیار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی ملک میں انتخابات سے قبل سیاسی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔