اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے راجن پور تا ڈیرہ اسماعیل خان قومی شاہراہ کا اربوں روپے کا منصوبہ ایک بلیک لسٹ کنسٹرکشن کمپنی کو دے دیا۔ معاملہ سامنے آنے پر کمیٹی نے تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
’می ٹو مہم کو پاکستان میں غلط استعمال کیا گیا‘، کومل میر
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر پرویز رشید کی زیر صدارت ہوا، جس میں مواصلات ڈویژن کے مالی سال 2025-26 کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر ضمیر حسین گھومرو نے نشاندہی کی کہ جس کمپنی کو راجن پور تا ڈی آئی خان شاہراہ کا ٹھیکہ دیا گیا، وہ بلیک لسٹ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ این ایچ اے بورڈ نے ایسی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کی منظوری کیسے دی؟
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے این ایچ اے کی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا "بلنڈر” ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے انکشاف کیا کہ جس ثالث نے بلیک لسٹ کمپنی کے حق میں فیصلہ دیا، وہ خود اسی کمپنی کا قانونی مشیر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی کمپنی مختلف ناموں سے منصوبے حاصل کرتی رہی ہے۔
این ایچ اے حکام نے وضاحت دی کہ مذکورہ کمپنی کو ملتان-لودھراں سیکشن کے کیس میں عدالت اور ثالثی فیصلے کے تحت ریلیف ملا تھا، جس کے بعد اس کو نیا منصوبہ دیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ راجن پور سے ڈی جی خان تک پانچ بائی پاسز تعمیر کیے جائیں گے، جن میں سے کچھ کی فنڈنگ ہو چکی ہے جبکہ کچھ التوا کا شکار ہیں۔ اب تک منصوبے کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے ریلیز ہو چکے ہیں، جبکہ زمین کی خریداری سمیت منصوبے کے لیے مزید 11 ارب روپے درکار ہیں۔
اجلاس میں خصوصی دعوت پر صحافی رانا ابرار خالد نے بھی شرکت کی، جنہوں نے استفسار کیا کہ 2020 سے منصوبے کے فنڈز سرکاری خزانے میں موجود ہونے کے باوجود کام کا آغاز کیوں نہیں کیا گیا؟ چیئرمین کمیٹی نے صحافی کے سوالات کو درست قرار دیتے ہوئے این ایچ اے سے جوابات طلب کر لیے۔
کمیٹی کو این ایچ اے کی جانب سے ٹول فیس میں اضافے سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ سینیٹر پلوشہ خان اور سیف اللہ ابڑو نے غریب عوام پر بوجھ بڑھانے پر اعتراض کیا۔ حکام نے بتایا کہ چھ سال بعد ٹول فیس میں اضافہ کیا گیا ہے، اور اس وقت ملک بھر میں 211 ٹول پلازے موجود ہیں، جن میں سے 111 موٹر وے اور 100 ہائی وے پر ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ تمام ٹول پلازے نیلام کیے جا چکے ہیں۔
سینیٹر کامل علی آغا نے الزام لگایا کہ ٹول پلازے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو سہولت دینے کے لیے بنائے جا رہے ہیں، جو ایک نیا کاروبار بن چکا ہے۔ کمیٹی نے ملک بھر کے ٹول پلازوں کی فہرست اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی نے این ایچ اے حکام سے استفسار کیا کہ موٹر وے پر سفر کے دوران ماضی میں موصول ہونے والے موبائل میسجز اب کیوں بند ہو گئے ہیں؟ این ایچ اے حکام نے لاعلمی کا اظہار کیا، جس پر چیئرمین کمیٹی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میسج نہ آنا برا ہے لیکن حکام کا لاعلم ہونا اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں اس پر بھی تفصیلی بریفنگ دی جائے۔