پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کا سفر: چیلنجز، کامیابیاں اور مستقبل کے تقاضے

55 / 100 SEO Score

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں ہونے والے حالیہ ایف اے ٹی ایف پلینری اجلاس میں پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالے جانے کے امکانات انتہائی کم تھے، تاہم اسلام آباد میں اس حوالے سے خدشات پائے جا رہے تھے۔ ان خدشات کی بڑی وجہ بھارت کی سفارتی کوششیں تھیں، جو حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش میں مصروف رہا۔

دنانیر مبین اور احد رضا میر کی شادی کی تقریب میں شرکت، سوشل میڈیا پر چرچے

9 مئی کے فوجی تصادم کے بعد بھارت نے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ کھول دیا اور ایف اے ٹی ایف سمیت مختلف فورمز پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، مگر وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس ناکامی میں پاکستان اور امریکا کے بہتر ہوتے تعلقات نے اہم کردار ادا کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داعش خراساں کے اہم رہنماؤں کی حوالگی پر پاکستان کی تعریف کی، جس سے ماحول سازگار ہوا۔

ایف اے ٹی ایف اجلاس میں چین، ترکی، سعودی عرب، جی سی سی کے رکن ممالک، پرتگال اور جنوبی افریقہ نے پاکستان کی حمایت کی، جس کی بدولت پاکستان اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے میں کامیاب رہا۔ پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف قوانین اور اقدامات کے ذریعے اپنے عزم کا مظاہرہ کیا اور اکتوبر 2022ء تک تمام ایکشن پلان مکمل کر لیے۔

انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے نئی اتھارٹی اور ایف آئی اے کی کاوشوں نے پاکستان کو محفوظ زون میں پہنچایا، لیکن مستقبل میں بدلتے عالمی قوانین کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے اس ادارے کو اپنی نگرانی اور پالیسی سازی پر توجہ مرکوز رکھنی ہوگی۔ ماہرین کے مطابق اگر اتھارٹی آپریشنل معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کرے گی تو یہ نیکٹا جیسی صورت حال سے دوچار ہو سکتی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے تجربے نے پاکستان کی اس صلاحیت کو اجاگر کیا کہ وہ خود کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کر سکتا ہے، تاہم آئندہ بھی مستعد نگرانی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ موثر تعاون ناگزیر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے