اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی موجودہ شرح گزشتہ 60 برسوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جو ایک خوش آئند معاشی اشارہ ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں کی ہیں، جس کے اثرات اب نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
بھارت کی سازش ناکام، بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان آنے پر راضی، لاہور میں 3 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے
انہوں نے کہا کہ ملک میں ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے، ساتھ ہی پالیسی ریٹ میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے — شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گئی ہے، جو معیشت کی بحالی کا اہم اشارہ ہے۔
جمیل احمد نے مزید بتایا کہ رواں مالی سال کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس سرپلس رہا ہے، جو معیشت کے استحکام کی طرف ایک اور قدم ہے۔
دوسری جانب، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی رپورٹ میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر رواں مالی سال کے اختتام پر تقریباً 13.92 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ آئندہ مالی سال میں یہ 17.68 ارب ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 2.6 فیصد رہنے کی توقع ہے، تاہم آئندہ سال اس میں بہتری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔