بیجنگ: پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے بیجنگ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے وزیر لیو جیان چاؤ سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سیاسی جماعتوں کے مابین تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ چین کی جانب سے پاکستان کو ’ہر موسم کا تزویراتی شراکت دار‘ اور ’آہنی دوست‘ قرار دیتے ہوئے تعلقات کو مزید مستحکم رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اسحٰق ڈار چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ میں موجود ہیں۔ ان کے اس دورے کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات، خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی امور پر مشاورت کرنا ہے، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں۔
دفتر خارجہ کے مطابق، اس دوران جنوبی ایشیا میں امن و استحکام، تجارتی روابط، اور علاقائی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کی بیجنگ آمد بھی متوقع ہے تاکہ علاقائی سلامتی پر سہ فریقی مشاورت ممکن بنائی جا سکے۔
روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ چین پاکستان کا سب سے قریبی دوست اور اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے، اور موجودہ تناؤ کے باوجود پاکستان نے مذاکرات اور تحمل کی راہ اپنائی ہے، جبکہ بھارت نے اشتعال انگیزی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت کی 6 اور 7 مئی کی فضائی کارروائیوں میں پنجاب اور آزاد کشمیر میں شہری جاں بحق ہوئے، جس پر پاکستان نے جوابی کارروائی میں پانچ بھارتی طیارے مار گرائے۔ بعد ازاں امریکی مداخلت پر 10 مئی کو جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم بھارت کی جانب سے جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔