آئینی ترمیم پر حکومت سے کوئی بڑا اختلاف نہیں رہا، مولانا فضل الرحمٰن

61 / 100 SEO Score

 جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم پر حکومت کے ساتھ کوئی بڑا اختلاف باقی نہیں رہا۔ اپنی رہائش گاہ پر حکومت کے وزرا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ طویل ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آئینی ترمیمی بل پر اتفاق رائے حاصل کر لیا گیا ہے۔

Anti-Encroachment Drive Continues in Gulberg Town’s Water Pump Market @kmc

مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد وہ اور بلاول بھٹو زرداری ایک متفقہ مسودے پر پہنچے ہیں، جسے کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی شیئر کیا گیا تھا۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے سامنے بھی اس مسودے کو پیش کیا گیا، جس پر مشاورت کے بعد حکومت نے ابتدائی مسودے سے پیچھے ہٹتے ہوئے متفقہ مسودے پر رضامندی ظاہر کی۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو بھی اس عمل میں شامل رکھا گیا اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ پی ٹی آئی قیادت نے بانی عمران خان سے مشاورت کی خواہش ظاہر کی، جس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے کل تک ان کے جواب کا انتظار کرنے پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئین سازی کے لیے سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ضروری ہے اور انہوں نے دو مہینوں کی انتھک محنت پر مولانا فضل الرحمٰن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی اتفاق رائے سے آئینی ترمیم منظور کروا لی جائے گی اور درخواست کی کہ جے یو آئی (ف) ہی پارلیمان میں یہ بل پیش کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے