یاترا ٹرین میں 10 لاکھ روپے سے زائد اضافی کرایہ وصولی بے نقاب — قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کا سخت اظہارِ تشویش

58 / 100 SEO Score

قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے ریلویز کے اجلاس میں یاترا ٹرین کراچی سے ننکانہ صاحب تک مسافروں سے دس لاکھ روپے سے زائد اضافی کرایہ وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اجلاس کنوینئر رمیش لال کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

ضلع باجوڑ کی تاریخی جامع مسجد کی تزئین و تعمیر نو مکمل، پاک فوج کی خدمات پر مقامی شہریوں کا شکریہ

کمیٹی نے یاتریوں سے اضافی رقوم لینے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے آنے والے زائرین کا پاکستان ہمیشہ مثبت امیج کے ساتھ استقبال کرتا ہے، اس لیے ریلوے کا یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔

کنوینئر رمیش لال نے ریلوے حکام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا کہ یاترا ٹرین کے کرایوں میں ساڑھے دس لاکھ روپے سے زائد کا فرق کیوں آیا؟ کمیٹی ممبر صادق میمن نے بھی سوال اٹھایا کہ ریلوے نے کلومیٹرز غلط لکھ کر کرایہ کیسے بڑھا دیا؟ بتایا جائے کہ غلط اندراج کیسے ہوا اور اضافی رقم کیسے بن گئی۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ کرتارپور راہداری سے لے کر ہر سطح پر یاتریوں کو سہولیات فراہم کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ اضافی رقم ہر صورت میں واپس کی جائے اور ریلوے حکام یاتریوں سے تحریری طور پر معذرت کریں۔ اس کے علاوہ واقعے کی انکوائری اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی۔

ریلوے حکام نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ انکوائری قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگی اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ کمیٹی کو مکمل رپورٹ بھی فراہم کی جائے گی۔

اجلاس میں کنوینئر نے ریلوے کی مجموعی کارکردگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ممبر قومی اسمبلی کو ریلوے کے ذریعے سفر کرانے کی کوشش کی تو ٹرین کے واش روم کی حالت انتہائی خراب پائی گئی، یہاں تک کہ پانی تک موجود نہیں تھا اور منرل واٹر کی بوتل دے کر انہیں واش روم بھیجا گیا۔ کنوینئر نے مزید کہا کہ ریلوے میں رنگ بدلنے کا کام جاری ہے جبکہ محکمے کے اندر ایک مافیا سرگرم ہے۔

کنوینئر نے تمام غفلتوں کی ذمہ داری سی ای او ریلوے عامر علی بلوچ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا ورنہ پوری کمیٹی ان کے خلاف تحریکِ استحقاق لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے مافیا نے یاتریوں سے زائد کرایہ وصول کر کے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے