اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو سیلابی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری، درمیانے اور طویل المدتی حکمتِ عملی وضع کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں نئے چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور پانی کے ذخائر کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا 2001 کا بلدیاتی نظام بحال کرنے اور سندھ حکومت سے فنڈز کا حساب دینے کا مطالبہ
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پانی کو محفوظ بنانے کے لیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداروں کو مزید متحرک ہونا پڑے گا، کیونکہ ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات پاکستان کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ سیلاب سے بڑے نقصانات کا خدشہ تھا لیکن مؤثر پیشگی اطلاعات اور ریسکیو اقدامات سے انسانی جانوں کا ضیاع محدود رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور سول انتظامیہ مل کر ریلیف آپریشن میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید طغیانی ہے جبکہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی شدید نقصان ہوا ہے۔ وزیراعظم نے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ برسوں میں سیلاب سے بچنے کے لیے صوبوں کو اپنی تیاری بہتر بنانی ہوگی۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب کے ہمراہ لاہور، سیالکوٹ اور نارووال کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو دریاؤں میں طغیانی، زیرِ آب علاقوں اور جاری ریلیف آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔