سندھ ہائیکورٹ کا سابق صدر عارف علوی اور اہل خانہ کی گرفتاری پر پابندی، 21 اکتوبر تک رپورٹ طلب

59 / 100 SEO Score

کراچی (کورٹ رپورٹر) — سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور اہل خانہ کی گرفتاری سے متعلق سرکاری اداروں کو روک دیا اور تمام فریقین سے 21 اکتوبر تک رپورٹ طلب کرلی۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس وقت دیا جب عارف علوی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارروائی کے خلاف درخواست دائر کی۔

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات جولائی میں ریکارڈ 3 ارب 54 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق صدر اور ان کے 12 اہل خانہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ ان کے موکل کے خلاف توہین مذہب کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ این سی سی آئی اے کو بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الزام ایک فرد پر ہے مگر پورے خاندان کو مالی طور پر متاثر کیا جا رہا ہے۔

عدالت میں تفتیشی افسر نے مؤقف اپنایا کہ این سی سی آئی اے درخواست گزار کے خلاف توہین مذہب کے الزامات پر تحقیقات کر رہی ہے اور نوٹس کے باوجود وہ پیش نہیں ہوئے۔

سندھ ہائیکورٹ نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ ڈاکٹر عارف علوی، ان کے صاحبزادے اواب علوی اور دیگر اہل خانہ کو حراست میں نہ لیا جائے۔ ساتھ ہی عدالت نے ہدایت دی کہ سابق صدر اور اہل خانہ این سی سی آئی اے کے روبرو پیش ہو کر تحقیقات میں تعاون کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے