پاکستان کی آئی ٹی برآمدات جولائی میں ریکارڈ 3 ارب 54 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں

62 / 100 SEO Score

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹ) — پاکستان کی آئی ٹی برآمدات جولائی میں تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 3 ارب 54 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 24 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 5 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ سطح گزشتہ 12 ماہ کی اوسط 3 ارب 17 کروڑ ڈالر سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس سے شعبے کی مستقل ترقی اور عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی مانگ ظاہر ہوتی ہے۔

معروف فیشن ڈیزائنر ماریا بی ٹرانس جینڈر مخالف بیانات پر 2 ستمبر کو سائبر کرائم ایجنسی کے سامنے طلب

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی تجزیہ کار ثانی عرفان کے مطابق جولائی میں یومیہ برآمدی وصولیاں 1 کروڑ 54 لاکھ ڈالر رہیں، جو جون کے 1 کروڑ 78 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں کچھ کم ہیں۔ تاہم مجموعی برآمدات میں نمایاں اضافہ کمپیوٹر سروسز خصوصاً سافٹ ویئر کنسلٹنسی کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے ہوا۔ جون میں سافٹ ویئر کنسلٹنسی کی برآمدات 9 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں، جو جولائی میں بڑھ کر 10 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک جا پہنچیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اضافے میں کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں عالمی سطح پر پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے کلائنٹ بیس میں توسیع، خصوصاً خلیجی ممالک میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے اسپیشلائزڈ فارن کرنسی اکاؤنٹس کی رٹینشن حد کو 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنا اور روپے کے استحکام جیسے اقدامات شامل ہیں۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 62 فیصد آئی ٹی کمپنیاں اسپیشلائزڈ فارن کرنسی اکاؤنٹس رکھتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے متعارف کرائی گئی ای آئی اے اسکیم کے تحت آئی ٹی برآمد کنندگان اپنی برآمدی آمدن کا 50 فیصد تک غیر ملکی ایکویٹی انویسٹمنٹ میں لگا سکتے ہیں، جس نے ان کی آمدنی واپس پاکستان لانے کے اعتماد کو مزید بڑھایا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں خالص آئی ٹی برآمدات (Net IT Exports) — جو برآمدات میں سے درآمدات منہا کرنے کے بعد بنتی ہیں — 31 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 26 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد زیادہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے