گلگت بلتستان: گلیشیئر پھٹنے سے دریائے غذر بند، 200 افراد محفوظ مقامات پر منتقل، 70 مکانات تباہ

58 / 100 SEO Score

گلگت بلتستان: غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے نتیجے میں دریائے غذر کا بہاؤ کئی گھنٹوں تک بند رہا جس سے نشیبی علاقوں میں شدید خطرات لاحق ہوگئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق فوری امدادی کارروائیوں کے دوران کم از کم 200 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

نئے گیس کنکشنز آر ایل این جی نرخ پر دینے کی تجویز، صارفین کو 4 گنا زیادہ قیمت ادا کرنا ہوگی

ریسکیو ذرائع کے مطابق گپیس وادی کے تلی داس اور روشان دیہات میں رات گئے گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلاف) کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ دریائے غذر کے بہاؤ میں رکاوٹ کے بعد زیریں علاقوں کے مکینوں کو ہنگامی طور پر نکالا گیا۔ مقامی رضاکاروں، ریسکیو اہلکاروں اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے آپریشن میں حصہ لیا۔

سیکریٹری جی بی فدا حسین کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم کئی گھروں کو نقصان پہنچا اور لوگ صدمے کی حالت میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ درجہ حرارت کے باعث جھیل پھٹ گئی جس سے سادو نالے میں شدید سیلاب آیا۔ مقامی چرواہوں نے کمیونٹی کو بروقت اطلاع دے کر بڑی تباہی سے بچایا۔

جی بی کے وزیر قانون غلام محمد کے مطابق گلاف کے باعث اب تک 70 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ دریائے غذر کا پانی ملبے کی وجہ سے رکا ہوا ہے اور اس کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ اگر بہاؤ جلد بحال نہ ہوا تو سیکڑوں بڑے گھر زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے اور تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج سے بھی مدد طلب کرلی گئی ہے، جبکہ پولیس و انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ دریائے غذر کے قریب آباد بستیوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ نے کہا کہ ابتدائی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں شیشپر گلیشیئر کے گلاف کے باعث حسن آباد نالے میں سیلاب آیا تھا جس سے قراقرم ہائی وے کا ایک حصہ بہہ گیا، جبکہ بگروٹ ویلی میں بھی گلیشیئر پھٹنے سے ایک شخص جاں بحق اور اس کے والد زخمی ہوگئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے