مشرقی انڈونیشیا میں 6.7 شدت کا زلزلہ، سونامی کا کوئی خطرہ نہیں: بحرالکاہل وارننگ سینٹر

58 / 100 SEO Score

جکارتہ / واشنگٹن (خبر ایجنسیاں): مشرقی انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں پیر کی شب 6.7 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر اور مقامی جیو فزکس ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اس زلزلے سے سونامی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

قومی ہاکی ٹیم فائنل کھیلنے کے 16 دن بعد بھی ڈیلی الاؤنس سے محروم، وعدے وفا نہ ہوسکے

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یو ایس جیولوجیکل سروے (USGS) کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 49 منٹ پر آیا، جس کا مرکز مشرقی مالوکو صوبے کے شہر ٹوال سے تقریباً 177 کلومیٹر مغرب میں 66 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔

زلزلے کے فوری بعد بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر نے اطمینان دلایا کہ اس زلزلے کی نوعیت ایسی نہیں ہے جس سے سونامی پیدا ہو، جب کہ انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی نے بھی سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ "زلزلے میں سونامی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔”

تاحال کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

انڈونیشیا ایک زلزلہ خیز ملک ہے جو بحرالکاہل کے "رِنگ آف فائر” پر واقع ہے، جہاں زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں، جس کے باعث اس خطے کو اکثر زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کا سامنا رہتا ہے۔

ماضی میں انڈونیشیا کئی مہلک زلزلوں کا شکار رہ چکا ہے:

جنوری 2021 میں سولاویسی میں 6.2 شدت کے زلزلے سے 100 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔

2018 میں پالو میں 7.5 شدت کے زلزلے اور سونامی سے 2200 سے زائد اموات ہوئیں۔

2004 میں آچے صوبے میں 9.1 شدت کا زلزلہ اور سونامی آیا، جس سے صرف انڈونیشیا میں 1 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں میں زلزلوں کے خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، اور مقامی حکومتوں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے