پاکستان اور بھارت کا سفارتی ذرائع سے جیلوں میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

55 / 100 SEO Score

پاکستان اور بھارت نے سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت سے تمام پاکستانی قیدیوں کے لیے خصوصی قونصلر رسائی کے ساتھ سزا مکمل کرنے والے قیدیوں کی رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد، جسٹس جنید غفار سندھ، جسٹس عتیق پشاور، جسٹس روزی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مقرر

ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ فہرستوں کا تبادلہ قونصلر رسائی کے معاہدے 2008 کی تعمیل میں کیا گیا ہے، معاہدے کے تحت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے کی تحویل میں قیدیوں کی فہرستیں شیئر کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان نے 246 بھارتی قیدیوں کی فہرست ہائی کمیشن اسلام آباد کے نمائندے کے حوالے کی، جن میں 53 سویلین قیدی اور 193 ماہی گیر شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے 463 پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان کے ہائی کمیشن، نئی دہلی کے ایک سفارت کار کے ساتھ شیئر کی ہے، جن میں 382 سویلین قیدی اور 81 ماہی گیر شامل ہیں،

حکومت پاکستان نے ان تمام پاکستانی قیدیوں اور ماہی گیروں کی فوری رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے