وفاقی بجٹ 26-2025: بینکنگ، آٹو، منافع و کیش ٹرانزیکشنز پر ٹیکسوں میں اضافے کی تجاویز

58 / 100 SEO Score

وفاقی بجٹ 2025-26 میں حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں اضافے اور ریونیو میں بہتری کے لیے کئی اہم تجاویز زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق نان فائلرز کے لیے بینک سے یومیہ 50 ہزار روپے سے زائد رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1.2 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ بینک ڈیپازٹس اور بچت اسکیموں پر بھی ٹیکس بڑھایا جائے گا۔

کراچی پولیس کی ایک ہفتے کے دوران کامیاب کارروائیاں: 1054 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں منشیات اور اسلحہ برآمد

آٹوموبائل سیکٹر میں 800 سی سی سے کم انجن کی مقامی تیار کردہ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر لیوی عائد کرنے اور منافع و کیپٹل گین پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جبکہ سپر ٹیکس کی شرح میں ممکنہ کمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 1,000 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ وفاقی حکومت 270 ارب روپے کا بیرونی قرض لے گی، جبکہ چاروں صوبے 802 ارب روپے کے غیر ملکی قرضوں کا پلان بنا چکے ہیں۔ پنجاب 1,190 ارب، سندھ 887 ارب، خیبرپختونخوا 440 ارب، اور بلوچستان 280 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کریں گے۔

معاشی اہداف کے حوالے سے آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد رکھا گیا ہے، جبکہ موجودہ سال میں یہ شرح 3.6 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 2.68 فیصد رہی۔ اگلے سال مہنگائی کا ہدف 7.5 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے