اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی فوجی افسر کی جانب سے گولڈن ٹیمپل پر مبینہ پاکستانی حملے کے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر سختی سے مسترد کردیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکھ مذہب کے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کا الزام بے سروپا ہے اور اصل میں بھارت خود پاکستان میں عبادت گاہوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
رجب بٹ کی وضاحت: اہلیہ کو نظر انداز نہیں کیا، سوشل میڈیا کے تبصروں سے گھر تباہ نہیں ہونے دوں گا
ترجمان نے کہا کہ بھارت ان بے بنیاد الزامات کے ذریعے عالمی برادری کی توجہ اپنی انتہاپسند پالیسیوں اور عبادت گاہوں کے خلاف کارروائیوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔ ترجمان نے زور دیا کہ پاکستان سکھ مذہب کے مقدس مقامات کا قابل فخر محافظ ہے اور ہر سال ہزاروں سکھ یاتریوں کا استقبال کرتا ہے، خاص طور پر کرتارپور کوریڈور کے ذریعے ویزہ فری سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب دفتر خارجہ نے بھارتی میڈیا کی جانب سے "آپریشن بنیان مرصوص” کے دوران پاکستان پر شاہین میزائل کے استعمال کے دعوے کو بھی سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق بھارتی میڈیا کے دعوے ایک جعلی ویڈیو پر مبنی تھے، جو بھارتی فوج کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی اور بعد میں حذف کر دی گئی۔
ترجمان نے کہا کہ شاہین ٹو میزائل ایٹمی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس حوالے سے کوئی حقیقت نہ ہونے کے باوجود بھارت نے جان بوجھ کر گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے اور اس طرح کے بے بنیاد الزامات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔