پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ سیزفائر کسی مخصوص مدت یا تاریخ تک محدود نہیں ہے اور جب تک کوئی فریق خلاف ورزی نہیں کرتا، جنگ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔
اداکار، موسیقار اور لکھاری محبت کے سفیر ہیں، انہیں جنگوں میں نہ گھسیٹا جائے: عتیقہ اوڈھو
یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان 10 مئی کو سیزفائر عمل میں آیا تھا، جس کے بعد دونوں جانب کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان تین مرتبہ رابطہ ہوا۔ ان رابطوں کے دوران سیزفائر کو برقرار رکھنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کچھ حلقوں میں سیزفائر کی مدت سے متعلق غلط فہمیاں پائی جا رہی ہیں، حالانکہ جنگ بندی کسی خاص وقت سے مشروط نہیں ہے۔ پاکستان معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ہے اور بھارت کی جانب سے بھی فی الحال کوئی نئی اشتعال انگیزی سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر امن قائم رکھنے کے لیے دونوں جانب سے مثبت اور تعمیری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اگر بھارت نے سیزفائر کی خلاف ورزی کی تو اس کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف جارحیت کی تھی، جس کا پاکستان نے فوری اور منہ توڑ جواب دیا۔ ایئر فورس نے بھارتی رافیل سمیت 6 طیارے مار گرائے جبکہ بھارتی میزائل حملوں کے جواب میں پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت بھارت کے 10 سے زائد ایئر بیسز، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
حالیہ پیشرفت کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سیزفائر معاہدہ ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔