گورنر خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر طنز، کرپشن، گورننس اور سیاسی رویے پر کڑی تنقید

61 / 100 SEO Score

پشاور  — گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جو ٹاسک اسلام آباد سے ملتا ہے وہ "اچھے بچوں” کی طرح اسے پورا کرتے ہیں۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلیٰ "مائنز اینڈ منرلز بل” پاس کرواتے ہیں یا اپنی نوکری بچاتے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ 5 لاکھ ہتھیار لاپتہ، بی بی سی کا انکشاف

فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کو کرپشن کا گڑھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام ادارے اور وزرا بدعنوانی میں ملوث ہیں، اور واحد خاموش ادارہ نیب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی این آر او حاصل کرنے کے لیے مختلف حلقوں کے پاؤں پڑ رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ نے عوام کے ٹیکس کا پیسہ جلسوں اور جلوسوں پر خرچ کر دیا، اور پارٹی کے وزرا ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ جب وہ گورنر نہیں تھے تب بھی کرپشن کی نشاندہی کرتے رہے ہیں، اور اب بھی صوبے میں نوکریاں بیچی جا رہی ہیں۔

گورنر نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ بل کے حوالے سے دیگر جماعتوں سے مشاورت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ صرف اپنی سیٹ بچانے کی فکر میں ہیں تو عوام کا مفاد پس پشت چلا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں خیبرپختونخوا کے عوامی وسائل عیاشیوں پر اڑائے جا رہے ہیں، جبکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ گورنر نے انکشاف کیا کہ خود علی امین گنڈاپور اپنے سابق وزرا کو چور کہہ چکے ہیں، مگر نیب اور ایف آئی اے مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سابق وزیر خزانہ نے بھی وزیراعلیٰ پر جلسوں میں پیسہ خرچ کرنے کا الزام لگایا، اور اعظم سواتی نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اسٹبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے انہیں بھیجا گیا۔

فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ وزیراعلیٰ ترقیاتی امور کے لیے افغانستان جاتے ہیں، مگر چین کیوں نہیں جاتے جہاں سے حقیقی ترقیاتی مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے آج تک پشاور آنے کی زحمت نہیں کی، کیا وہ کسی بڑے سانحے کا انتظار کر رہے ہیں؟ گورنر نے وزیراعظم کو پشاور آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کی حالت زار خود آ کر دیکھیں۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کرم میں 25 کلومیٹر کی سڑک نہیں کھول سکتی اور اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے