حکومت نے ڈاکٹر قیصر بنگالی کی رائے کو رابطے، سمجھ بوجھ کی کمی پر مبنی قرار دے دیا

مہارت نیوز: وفاقی حکومت نے گزشتہ روز حکومتی کمیٹی سے استعفیٰ دینے والے ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے ان کی رائے کو رابطے یا سمجھ بوجھ کے فقدان پر مبنی قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم رائٹ سائزنگ کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کے علاوہ کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی سے متعلق کمیٹوں کی رکنیت سے بھی دستبردار ہو گئے تھے۔

وفاقی حکومت کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ گریڈ 1 سے 16 نہیں بلکہ 22 تک تمام سرکاری عہدوں کو رائٹ سائز کیا جا رہا ہے۔ اس وقت رائٹ سائزنگ کے پہلے مرحلے میں 6 وزارتوں اور اداروں کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں ایک وزارت کو ختم کرنے اور دو وزارتوں کو ضم کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ تقریباً 60 ہزار عہدے سرپلس ہو سکتے ہیں، جن میں گریڈ 17 سے 22 تک کے عہدے بھی شامل ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اپنی رائے کمیٹی کے معزز رکن کی حیثیت سے دی، اور ان کی رائے کو سمجھ بوجھ کے فقدان پر مبنی قرار دیا۔ حکومت 1973ء کے سول سرونٹس کے قانون میں ضروری ترمیم کر رہی ہے اور ایک لازمی ریٹائرمنٹ پیکیج پر کام کر رہی ہے تاکہ یہ تمام سول سرونٹس پر لاگو ہو سکے۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حکومت اخراجات کم کرنے میں سنجیدہ نہیں اور صرف چھوٹے ملازمین کی تعداد کم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ حکومت گریڈ 1 سے 16 کے ملازمین کو فارغ کر رہی ہے جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے افسران کی نوکریوں کو بچایا جا رہا ہے، جس سے اخراجات میں کوئی خاص کمی نہیں آئے گی۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی نے یہ بھی کہا کہ حکومت تینوں کمیٹوں کی تجاویز کے برخلاف اقدامات کر رہی ہے اور اخراجات میں کمی کے لیے 50 سرکاری محکمے بند کرنے کی تجویز دی تھی۔ ان کے مطابق، معیشت تباہی کی طرف جارہی ہے اور آئی ایم ایف اور دیگر ادارے قرضے دینے کو تیار نہیں ہیں۔

وفاقی کابینہ نے رائٹ سائزنگ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے اداروں کو ضم و تحلیل کرنے سے متاثر ہونے والے ملازمین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی قائم کی ہے۔ اس کے علاوہ، وزیر خزانہ عبدلعلیم خان نے قومی اسمبلی میں بتایا تھا کہ حکومت 24 ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں قومی ایئر لائن پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹل، فرسٹ وومن بینک، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن اور دیگر شامل ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس میں کہا تھا کہ ملک اس بات کا متحمل نہیں کہ افسر شاہی اور اشرافیہ عوام کے ٹیکس پر عیش کریں، اور وزرا کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وزارتوں اور اداروں میں کفایت شعاری کے اقدامات پر بھرپور عمل درآمد جاری رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے