اسلام آباد — بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ مالی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کو مزید گہرے اور مؤثر اصلاحاتی اقدامات کرنا ہوں گے۔
آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ اگرچہ سیلاب جیسے بڑے چیلنج کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام کی سمت مثبت پیش رفت کی ہے، مگر پائیدار بہتری کے لیے نجی شعبے کی شمولیت، سرکاری سرمایہ کاری کے عمل میں شفافیت، ٹیکس نظام کو سادہ بنانے اور کاروباری ماحول کو بہتر کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف نائیجل کلارک کے مطابق سخت مانیٹری پالیسی نے مہنگائی میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ شرح مبادلہ کی لچک برقرار رکھنا آئندہ بھی ضروری ہے۔ توانائی شعبے میں جاری اصلاحات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹس نے گردشی قرضے میں کمی میں مدد دی ہے، تاہم مزید اصلاحات ناگزیر ہیں۔
آئی ایم ایف نے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے اخراجات میں کمی، گورننس بہتر بنانے اور کرپشن سے متعلق رپورٹ کی شفاف اشاعت کو اہم اقدام قرار دیا۔
حکومتِ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی ڈسپلن برقرار رکھا جائے گا اور معاشی اصلاحات پر تسلسل سے عمل جاری رہے گا، جبکہ مہنگائی کو مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کی کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔
جاری کردہ تازہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق:
جی ڈی پی گروتھ 3 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے
بے روزگاری 8.3 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد رہنے کی توقع ہے
اوسط مہنگائی 4.5 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد تک جاسکتی ہے
بجٹ خسارہ 5.6 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آ سکتا ہے
ایگزیکٹو بورڈ نے جاری اعلامیے میں قرض پروگرام پر پاکستان کی پیش رفت کو قابلِ تعریف قرار دیا اور کہا کہ پالیسی اقدامات نے ملکی معیشت کو مستحکم کیا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔