کراچی — نئے بلدیاتی نظام کے بعد مقامی سطح پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر کی 246 یونین کمیٹیوں (یو سیز) کے لیے سالانہ تقریباً 30 کروڑ روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس رقم کے تحت ہر یو سی کو ماہانہ ایک لاکھ روپے اضافی دیے جائیں گے، جن کا استعمال صرف مین ہول کورز اور اسٹریٹ لائٹس کی مرمت و بحالی کے لیے ہوگا۔
یہ فیصلہ نیپا کے قریب نالے میں 3 سالہ بچے کے المناک طور پر جاں بحق ہونے کے بعد عوامی تشویش اور شدید ردِعمل کے تناظر میں کیا گیا، جس نے شہری انفراسٹرکچر کی خستہ حالی کو نمایاں کیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق یہ رقم اُن مین ہول کورز اور لائٹس سے ہٹ کر ہے جو کے ایم سی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری انتظامیہ اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ رہی بلکہ یو سیز کو مالیاتی اختیار دے کر انہیں فوری کارروائی کے قابل بنا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یونین کمیٹیاں پہلے ماہانہ 5 لاکھ روپے حاصل کرتی تھیں، جو بڑھ کر 12 لاکھ روپے ہوگئے ہیں، اور اب نئی منظوری کے بعد اضافی ایک لاکھ روپے مزید دیے جائیں گے تاکہ محلے کی سطح پر فوری مرمت یقینی بنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نئی سمری کے تحت کے ایم سی ہر ماہ 2 کروڑ 46 لاکھ روپے 246 یو سیز میں تقسیم کرے گی، جبکہ رقم میونسپل یوٹیلٹی چارجز اینڈ ٹیکسز (MUCT) اکاؤنٹ سے جاری ہوگی۔ اس ٹیکس کے ذریعے کے ایم سی کا سالانہ آمدنی کا ہدف 4 ارب روپے مقرر ہے، جو کے الیکٹرک کے بلوں میں شامل کر کے وصول کیا جا رہا ہے۔
شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے میئر نے ہیلپ لائن 1334 اور ای میل complaint@kmc.gos.pk بھی فعال کر دی ہے، تاکہ کھلے مین ہولز اور خراب اسٹریٹ لائٹس کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ یو سی سطح پر پہلی بار بڑے پیمانے پر اختیارات کی منتقلی ہے، تاہم اس بات پر سوال برقرار ہے کہ فنڈز کی شفاف خرچ کا مؤثر طریقہ کار کیا ہوگا اور کس طرح یقینی بنایا جائے گا کہ رقم صرف مخصوص مقصد پر ہی استعمال ہو۔
میئر مرتضیٰ وہاب کو اُمید ہے کہ یہ اقدام شہری علاقوں میں "ناخوشگوار حادثات” کی روک تھام اور بنیادی شہری خدمات کی بہتری میں مددگار ہوگا اور کراچی کو مزید محفوظ اور بہتر طور پر منظم شہر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔