جاپان میں 7.5 شدت کا زلزلہ: سونامی وارننگز واپس، 90 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل

62 / 100 SEO Score

جاپانی حکام نے منگل کے روز 7.5 شدت کے طاقتور زلزلے کے بعد جاری کی گئی سونامی وارننگز واپس لے لیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق زلزلے نے ملک کے شمال مشرقی خطے کو شدید ہلا کر رکھ دیا، جس کے باعث کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے جبکہ تقریباً 90 ہزار رہائشیوں کو حفاظتی مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔

اسپیکر ایاز صادق کی حکومت–پی ٹی آئی مذاکرات کی دوبارہ پیشکش، ’مائنس ون‘ فارمولا نہیں چلے گا، پی ٹی آئی کا پارلیمانی بائیکاٹ کا انتباہ

زلزلہ پیر کی شب 11 بج کر 15 منٹ (1415 جی ایم ٹی) پر سمندر کے ساحل سے دور آیا۔ جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی (جے ایم اے) نے اندازہ ظاہر کیا تھا کہ 3 میٹر (10 فٹ) تک بلند سونامی ہوکائیڈو، آوموری اور ایواتے کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا سکتی ہے۔ متعدد بندرگاہوں پر 20 سے 70 سینٹی میٹر تک اونچی سونامی لہریں ریکارڈ کی گئیں۔

منگل کی صبح جے ایم اے نے وارننگز کو کم کرتے ہوئے ایڈوائزری میں تبدیل کیا اور بعد ازاں تمام ایڈوائزریز بھی ختم کر دیں۔ حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ زلزلے کا مرکز آوموری کے ساحل سے 80 کلومیٹر دور اور 54 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا، جبکہ آوموری کے شہر ہاچینوہے میں جھٹکے کی شدت ’اپر 6‘ ریکارڈ کی گئی جو کھڑے رہنے یا چلنے پھرنے کو تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔

وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی نے بتایا کہ اب تک 30 زخمیوں اور ایک مقام پر آگ لگنے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ ایسٹ جاپان ریلوے نے کئی مقامی ٹرین سروسز معطل کر دیں جبکہ دیگر سروسز شدید متاثر رہیں۔

جے ایم اے نے ہوکائیڈو سے چیبا تک وسیع علاقے میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران مزید طاقتور جھٹکوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق زلزلے کے بعد کچھ دنوں تک شدید جھٹکوں کے امکانات موجود ہیں۔

توانائی حکام کے مطابق توہوکو الیکٹرک پاور اور ہوکائیڈو الیکٹرک پاور کے جوہری بجلی گھروں میں کسی بے قاعدگی کی اطلاع نہیں ملی۔ ہزاروں گھروں میں بجلی معطل ہوئی تھی جسے منگل کی صبح تک بحال کر دیا گیا۔

زلزلے کی خبر کے بعد عالمی کرنسی مارکیٹ میں ین کی قدر عارضی طور پر کمزور ہوئی اور ڈالر و یورو اپنی نشست کے دن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔

جاپان دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں اوسطاً ہر پانچ منٹ میں ایک زلزلہ آتا ہے۔ خطہ ’رِنگ آف فائر‘ میں واقع ہونے کے باعث دنیا میں 6.0 یا اس سے زیادہ شدت کے تقریباً 20 فیصد زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2011 میں 9.0 شدت کے ہولناک زلزلے اور سونامی نے شمال مشرقی جاپان کو تباہ کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 ہزار افراد ہلاک اور فُکُوشیما جوہری پلانٹ میں بدترین جوہری حادثہ پیش آیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے بڑے زلزلے کے بعد ایک ہفتہ تک میگا کوئیک ایڈوائزری جاری کرنے کی پالیسی اپنا لی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے