ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ملیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا کہ اگر کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کا مطالبہ منظور نہیں ہوتا تو ایم کیو ایم نئے صوبوں کا مطالبہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر کراچی انتظامی بنیادوں پر تقسیم ہوسکتا ہے تو پھر سندھ بھی تقسیم ہوسکتا ہے۔”
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے فنڈز شہر کے عوام کے ہیں، اور ان کی نگرانی کرنا ایم کیو ایم کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی حق جتانے نہیں بلکہ حق دلوانے کے لیے میدان میں ہے۔
جلسے سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ وہ ایک نظریاتی ایم کیو ایم تشکیل دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “دیکھنا ہوگا ترقی کی راہ میں رکاوٹ کون ہے، گھر بیٹھنے والے کارکنان باہر نکلیں اور ہمارا ساتھ دیں۔”
اس موقع پر کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر کراچی میں چھ ڈسٹرکٹ بن سکتے ہیں تو سندھ میں بھی چھ انتظامی ڈویژن بننے چاہییں۔ انہوں نے کارکنوں کو متنبہ کیا کہ شخصیت پرستی سے بچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلا سال ایم کیو ایم کا ہوگا، “اگر آپ نے خود کو نہ بدلا تو وقت آپ کو بدل دے گا۔”
خالد مقبول نے مزید بتایا کہ آرٹیکل 140-A کے نفاذ کے لیے ایم کیو ایم نے 28ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا ہے۔