آسٹریلوی سینیٹ میں برقعہ پہن کر احتجاج کرنے والی انتہاپسند سینیٹر ایک ہفتے کے لیے معطل

52 / 100 SEO Score

آسٹریلیا کی متنازع اور مہاجر مخالف سیاستدان پالین ہنسن کو سینیٹ اجلاس میں برقعہ پہن کر مسلمانوں کے مذہبی لباس پر پابندی کے حق میں احتجاج کرنے پر ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا۔

کراچی کے مسائل حل کیلئے پرعزم ہیں، الطاف حسین حالی روڈ کا کام جلد شروع ہوگا: ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد

بی بی سی نیوز کے مطابق ہنسن کے اس اقدام پر پارلیمنٹ میں شدید ردِعمل سامنے آیا، دیگر سینیٹرز نے ان پر تنقید کی اور بعد ازاں باقاعدہ سرزنش کی گئی۔ ایک ساتھی رکن نے تو یہاں تک کہا کہ ہنسن نے ’’نسل پرستانہ طرزِعمل‘‘ کا مظاہرہ کیا۔

کویینز لینڈ سے تعلق رکھنے والی ’ون نیشن‘ پارٹی کی سینیٹر طویل عرصے سے عوامی مقامات پر چہرہ مکمل ڈھانپنے والے لباس پر پابندی کی مہم چلا رہی ہیں اور اسی سلسلے میں وہ ایک نیا بل پیش کرنا چاہتی تھیں۔ سینیٹ کی جانب سے بل مسترد کیے جانے کے بعد انہوں نے بطور احتجاج دوبارہ برقعہ پہن کر ایوان میں واپسی کی۔ یہ دوسرا موقع تھا جب وہ پارلیمنٹ میں یہ لباس پہن کر آئیں۔

مسلم گرینز کی سینیٹر مہرین فاروقی نے ان کے طرزِعمل کو ’’کھلی نسل پرستی‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ گزشتہ برس وفاقی عدالت نے بھی مہرین فاروقی کو ہنسن کی جانب سے نسلی امتیاز کا شکار قرار دیا تھا، جس کے خلاف ہنسن نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔

ویسٹرن آسٹریلیا کی آزاد سینیٹر فاطمہ پیمن نے اس حرکت کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیا۔

منگل کے روز وزیر خارجہ اور سینیٹ میں حکومتی قائد پینی وونگ نے ہنسن کی سرزنش کے لیے قرارداد پیش کی اور کہا کہ وہ ’’دہائیوں سے تعصب کو احتجاج کے طور پر پیش کرتی آ رہی ہیں‘‘۔ قرارداد 5 کے مقابلے میں 55 ووٹوں سے منظور ہوئی، اور اس میں کہا گیا کہ ہنسن کے اقدامات مسلمان آسٹریلوی شہریوں کی بے ادبی اور مذہبی مذاق اڑانے کے مترادف تھے۔

پینی وونگ نے بحث کے دوران یہ بھی کہا کہ ہنسن ’’آسٹریلوی سینیٹ کی رکن بننے کی اہل نہیں‘‘۔

بعد ازاں فیس بک پر اپنے ردِعمل میں ہنسن نے کہا کہ ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے نہ پہنوں تو برقعہ پر پابندی لگا دیں۔‘‘

یاد رہے کہ پالین ہنسن اس سے قبل 2017 میں بھی پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر آئی تھیں۔ 2016 میں اپنے ابتدائی خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک ’’مسلمانوں کی بھرمار‘‘ کے خطرے سے دوچار ہے، جس پر بھی انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے