پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس سے قبل اہم پیشرفت کرتے ہوئے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ کی تکنیکی رپورٹ جاری کر دی۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ رپورٹ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کا حصہ ہے، جو حکومت کی درخواست پر آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے 8 ماہ کے دوران تیار کی۔
2050 تک کراچی دنیا کے پانچ بڑے شہروں میں شامل ہوسکتا ہے، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کرپشن پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات، احتساب، اور عدالتی ڈھانچے میں سنگین مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ طاقتور گروہوں اور سرکاری اداروں سے جڑی کرپشن سب سے خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق دہائیوں سے جاری کرپشن نے ملکی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور آئی ایم ایف سے بار بار قرض لینے کے باوجود بنیادی مسائل برقرار ہیں۔ معاشی زوال کے نتیجے میں پاکستانی عوام معیارِ زندگی میں ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی فیصلہ سازی میں شفافیت کی شدید کمی ہے، جبکہ اینٹی کرپشن اداروں کی کمزور کارکردگی سے احتساب کا عمل غیر مؤثر، غیر منصفانہ اور غیر مستقل ہو چکا ہے، جس نے اداروں پر عوامی اعتماد کو مزید کم کیا ہے۔
دستاویز میں نیب سمیت تمام اینٹی کرپشن اداروں کو جدید اور بااختیار بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر تجویز کردہ اصلاحات پر عمل ہو جائے تو ملکی جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔
مزید کہا گیا کہ پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے، جو معاشی فیصلوں کو یکطرفہ اور غیر نمائندہ بناتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 11.1 فیصد کاروباری اداروں نے بدعنوانی کو کاروبار کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا، جو جنوبی ایشیا کے اوسط 7.4 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ کرپشن کے باعث اخراجات غیر مؤثر، ٹیکس وصولی کم، عدالتی نظام پر اعتماد محدود اور سرکاری اداروں میں جوابدہی نہ ہونے کے برابر ہے۔
سرکاری اداروں، مارکیٹ ریگولیشن اور بینکنگ سسٹم کی نگرانی میں بھی سنگین خامیاں موجود ہیں، جبکہ پیچیدہ کاروباری قوانین سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ رپورٹ میں شفاف اور واضح قوانین متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
عوام اور کاروبار کے لیے معلومات تک رسائی کے نظام کو مشکل قرار دیتے ہوئے اوپن ڈیٹا سسٹم کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کاروباری ریگولیشن کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے، نجی شعبے کو زیادہ اختیارات دینے اور غیر ضروری حکومتی مداخلت کم کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بہتر گورننس، مؤثر احتساب اور شفاف نظام نہ صرف کرپشن میں کمی لائے گا بلکہ سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام بہتر ہوا ہے، جس میں پرائمری سرپلس، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی شامل ہے۔