حافظ نعیم الرحمٰن کا 2001 کا بلدیاتی نظام بحال کرنے اور سندھ حکومت سے فنڈز کا حساب دینے کا مطالبہ

59 / 100 SEO Score

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ملک میں 2001 کا بلدیاتی نظام دوبارہ نافذ کیا جائے اور صوبے کو ملنے والے اربوں روپے کے فنڈز کا حساب دیا جائے۔

پاکستان نے اے ڈی بی سے پالیسی قرضوں اور گرین فنانسنگ میں اضافی تعاون کی درخواست کردی

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ذریعے کچرا اٹھانے کے نام پر اربوں روپے ہڑپ کر لیے گئے لیکن شہر آج بھی کوڑے کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں حالیہ بارش کے بعد اربن فلڈنگ نے نااہلی اور لوٹ مار کو بے نقاب کر دیا ہے، حالانکہ پاکستان کے مجموعی ٹیکسوں کا 67 فیصد کراچی ادا کرتا ہے۔

امیرِ جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ میئر شپ قبضہ کر کے پیپلز پارٹی کو دی گئی ہے اور سندھ بھر میں لوٹ مار کا سسٹم کراچی سے کشمور تک رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بتائے کہ بارشوں میں کراچی ڈوبنے کا ذمے دار کون ہے؟

حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ بیوروکریسی کو بلدیاتی اداروں کے ماتحت ہونا چاہیے، لیکن اس وقت سارا کنٹرول وڈیروں اور جاگیرداروں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت جب جواب دہی کی بات آتی ہے تو اسے لسانی رنگ دینے کی کوشش کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے