ٹرمپ انتظامیہ کا غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ

58 / 100 SEO Score

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام کی مدت محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جو ملک میں قانونی امیگریشن مزید سخت کرنے کی تازہ ترین کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کا حل پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت غیر ملکی طلبہ کو اسٹوڈنٹ ویزے پر 4 سال سے زیادہ قیام کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ غیر ملکی صحافیوں کے لیے قیام کی مدت 240 دن مقرر کی گئی ہے۔ صحافی مزید 240 دن کی توسیع کے لیے درخواست دے سکیں گے، تاہم چینی صحافیوں کے لیے یہ مدت صرف 90 دن ہوگی۔

اب تک امریکا غیر ملکی طلبہ کو ان کے تعلیمی پروگرام کے دورانیے تک قیام کی اجازت دیتا رہا ہے اور صحافیوں کو بھی ان کی اسائنمنٹ کے مطابق ویزے جاری کیے جاتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے الزام عائد کیا کہ بڑی تعداد میں غیر ملکی طلبہ بلاوجہ اپنی تعلیم کو طول دیتے ہیں تاکہ امریکا میں طویل عرصے تک قیام کر سکیں، جس سے سیکیورٹی خدشات بڑھتے ہیں اور امریکی ٹیکس دہندگان کے وسائل پر بوجھ پڑتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمے نے یہ وضاحت نہیں کی کہ بین الاقوامی طلبہ سے امریکی شہریوں کو کس طرح نقصان پہنچا، حالانکہ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق صرف 2023 میں غیر ملکی طلبہ نے معیشت میں 50 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا۔

اعداد و شمار کے مطابق تعلیمی سال 24-2023 میں 11 لاکھ سے زائد غیر ملکی طلبہ امریکا میں داخل ہوئے، جو دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے، جبکہ یہ طلبہ امریکی جامعات کے لیے ایک بڑی مالی مدد سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ عموماً مکمل فیس ادا کرتے ہیں۔

امریکی جامعات کے نمائندہ اداروں اور ماہرین تعلیم نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ اس سے نہ صرف تعلیمی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوگی بلکہ امریکا کی عالمی مسابقتی پوزیشن بھی کمزور ہوگی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جامعات میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ہو رہا ہے اور پہلے ہی بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی رپورٹ کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے اس فیصلے سے امریکا کی علمی برتری اور تحقیقی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جبکہ دنیا بھر سے باصلاحیت افراد کے لیے یہ پیغام جائے گا کہ ان کی خدمات کی امریکا میں کوئی قدر نہیں کی جاتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے