لاہور: جماعت اسلامی کی جانب سے لاہور کے منصورہ مرکز سے "حق دو بلوچستان مارچ” کے اعلان کے بعد صورتِ حال سنگین ہو گئی ہے۔ حکومت پنجاب اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری مذاکرات میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ جماعت اسلامی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ منصورہ سے مارچ نکالے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ذرائع کے مطابق، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کی قیادت میں یہ مارچ بلوچستان کے حقوق، امن و امان کی بحالی، لاپتہ افراد کی بازیابی اور دیگر مطالبات کے حق میں ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ یہ مارچ پرامن ہوگا اور اسلام آباد تک جائے گا۔
حکومت پنجاب کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ مارچ کو منصورہ کے اندر محدود رکھا جائے۔ تاہم جماعت اسلامی آزادی چوک یا لاہور پریس کلب تک مارچ کی اجازت چاہتی ہے۔
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جن میں حکومتی وفد کی قیادت سینئر وزیر مریم اورنگزیب کر رہی ہیں، ان کے ہمراہ وزیر قانون صہیب بھرت اور وزیر صحت سلمان رفیق بھی شریک ہیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، امیر العظیم اور مولانا ہدایت الرحمٰن مذاکرات کا حصہ ہیں۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام دہائیوں سے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، اور اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے ان مطالبات کو قومی ایوانوں تک لے جانا ان کا آئینی حق ہے۔
واضح رہے کہ مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ پہلے ہی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے بلوچستان سے لاہور پہنچ چکے ہیں، جہاں سے اسلام آباد روانگی کی تیاری کی جا رہی ہے۔