پاکستان کا توانائی شعبے کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے 12 کھرب 75 ارب روپے کی اسلامی فنانسنگ ڈیل

62 / 100 SEO Score

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان نے اپنے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی میں مدد کے لیے 18 کمرشل بینکوں کے ساتھ 12 کھرب 75 ارب روپے (تقریباً 4.5 ارب ڈالر) کی اسلامی مالیاتی سہولت کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔

پاکستان ہاکی ٹیم نیشنز کپ کے فائنل میں، سیمی فائنل میں فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست

ڈان اخبار کے مطابق، حکومت جو توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے بیشتر حصے کی مالک ہے یا اسے کنٹرول کرتی ہے، سرکلر ڈیٹ، بقایا جات اور سبسڈیز کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالی بلکہ معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔

مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق، اس اسلامی فنانسنگ معاہدے میں میزان بینک، ایچ بی ایل، نیشنل بینک آف پاکستان اور یو بی ایل سمیت 18 کمرشل بینک شریک ہیں۔ قرض رعایتی شرح پر حاصل کیا گیا ہے جو تین ماہ کے کائبور سے 0.9 فیصد کم ہے، اور یہ فارمولہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پایا ہے۔

وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ قرض چھ سال میں 24 سہ ماہی اقساط میں ادا کیا جائے گا اور اس سے عوامی قرضوں پر بوجھ نہیں پڑے گا۔

حکومت سالانہ 323 ارب روپے کی ادائیگی کا ارادہ رکھتی ہے اور چھ سال میں ادائیگیوں کا حجم 19 کھرب 38 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

یہ معاہدہ پاکستان کے 2028 تک سود پر مبنی بینکاری کے خاتمے کے ہدف سے بھی ہم آہنگ ہے۔ اسلامی مالیات اس وقت کل بینکاری اثاثوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بن چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے