بجٹ میں سنگین خطرات کا انکشاف: حکومت کا آئندہ مالی سال سست نمو، مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ سے دوچار ہونے کا خدشہ

55 / 100 SEO Score

اسلام آباد: حکومت نے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ سست معاشی نمو، مہنگائی، قرضوں کا بڑھتا بوجھ اور دیگر سنگین خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے تحریری بیان میں ان خطرات کو سات اقسام میں تقسیم کیا، جن میں معاشی، محصولات، قرضے، سرکاری اداروں کی کارکردگی، ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور دیگر ذمہ داریاں شامل ہیں۔

ایشین نیشنز کپ والی بال: قومی ٹیم نے چائنیز تائپے کو شکست دے کر مسلسل دوسری فتح سمیٹ لی

بیان کے مطابق سست جی ڈی پی نمو، مہنگائی، شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ، ٹیکس وصولیوں میں کمی اور قرضوں پر سود کا بڑھتا بوجھ مالیاتی خسارے میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جی ڈی پی کی شرح نمو ایک فیصد کم ہونے پر ٹیکس آمدن متاثر ہوگی، جبکہ سوشل سیفٹی نیٹ پر اخراجات بڑھیں گے۔

مزید برآں، اسٹیٹ بینک کے منافع میں کمی، پیٹرولیم لیوی میں رکاوٹیں، سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی اور موسمیاتی آفات بھی مالی خسارے کو بڑھا سکتی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر قرضوں پر شرح سود بڑھتی ہے تو مالی خسارہ جی ڈی پی کے 0.42 فیصد تک متاثر ہوگا، جب کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کا کوئی مؤثر انتظام نہ ہونے پر یہ اثر جی ڈی پی کے 1.03 فیصد تک جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا کہ غیر یقینی ذرائع پر انحصار کم کرتے ہوئے ٹیکس چوری روکنے، اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ماحولیاتی خطرات کے لیے مالی وسائل مختص کرنا ناگزیر ہے تاکہ آئندہ مالی سال کے لیے معاشی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے