اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں توانائی کے شعبے کا گردشی قرض ختم کرنے کے لیے اہم فیصلہ کر لیا گیا۔ حکومت نے کمرشل بینکوں سے 1275 ارب روپے قرض لینے کی منظوری دے دی ہے تاکہ گردشی قرض کا بوجھ ختم کیا جا سکے۔
خواجہ آصف کا اسرائیل پر شدید ردعمل: “ایٹمی بدمعاش ریاست دنیا کے لیے خطرہ ہے”
ذرائع کے مطابق یہ قرض 6 سال کی مدت میں واپس کیا جائے گا، اور اس پر سود کی شرح تین ماہ کے کائیبور (KIBOR) کے ساتھ 0.9 فیصد اضافی ہوگی۔ منصوبے کے تحت حکومت ہر سال کمرشل بینکوں کو تقریباً 323 ارب روپے کی ادائیگیاں کرے گی۔
یاد رہے کہ رواں مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں (جولائی تا مارچ) کے اختتام پر بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2 ہزار 396 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو کہ یکم جولائی 2024 کے مقابلے میں تقریباً دو ارب روپے کا معمولی اضافہ ہے، تاہم مارچ 2024 کے مقابلے میں یہ قرض تقریباً 398 ارب روپے کم ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاور ڈویژن کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارچ 2025 کے اختتام تک بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے واجبات بڑھ کر 1,633 ارب روپے ہو چکے ہیں، جو کہ یکم جولائی 2024 کو 1,600 ارب روپے تھے۔