سنگاپور: بھارتی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے دوران بھارت نے کچھ لڑاکا طیارے کھوئے، تاہم انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ یہ تنازع ایٹمی جنگ کے قریب پہنچا تھا۔
پاکستان کبھی دباؤ میں نہیں آئے گا، مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل ناگزیر ہے: فیلڈ مارشل عاصم منیر
بلومبرگ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل چوہان نے کہا، "اہم بات یہ نہیں ہے کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ ہے کہ وہ کیوں گرائے گئے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ دعویٰ کہ اس نے 6 بھارتی طیارے مار گرائے "بالکل غلط” ہے، لیکن انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بھارت کے کتنے طیارے تباہ ہوئے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارت نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا، انہیں درست کیا اور دو دن بعد تمام طیارے دوبارہ پرواز کے لیے بھیجے اور طویل فاصلے سے کامیاب حملے کیے۔
یہ بیان مئی کے تنازع کے دوران بھارتی طیاروں کے حوالے سے کسی اعلیٰ بھارتی فوجی اہلکار کا پہلا واضح تبصرہ ہے۔ اس سے قبل بھارتی حکومت نے ان خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا کہ آیا اس کے طیارے تباہ ہوئے یا نہیں۔
یاد رہے کہ وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے مئی میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے 6 بھارتی طیارے مار گرائے تھے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی تھی۔
جنرل چوہان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ امریکا نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے میں مدد دی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ "یہ کہنا مبالغہ آرائی ہے کہ کوئی بھی فریق ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے قریب پہنچا تھا۔”
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ رابطے کے چینلز کھلے رہے، تاکہ کشیدگی کو قابو میں رکھا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہم نے پاکستان کے اندر 300 کلومیٹر دور تک ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا اور ان کے دفاعی نظام کو مجبوراً متحرک ہونا پڑا۔”
چینی دفاعی امداد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "چینی ہتھیار کام نہیں آئے”، اور پاکستان کو سیٹلائٹ معاونت فراہم کیے جانے کے دعووں کو مسترد کر دیا۔
آخری میں جنرل چوہان نے کہا کہ جنگ بندی برقرار ہے لیکن مستقبل کا انحصار پاکستان کے اقدامات پر ہے، اور بھارت نے اپنی "ریڈ لائنز” واضح کر دی ہیں۔