مہارت نیوز: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے افراط زر کی شرح اور مہنگائی کے اعشاریوں میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، اور خوشخبری دی ہے کہ جولائی 2024 میں افراط زر کی شرح 11 فیصد پر آگئی ہے، جبکہ ستمبر میں مزید کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق، وزیراعظم نے پاکستان ادارہ شماریات کے اعدادوشمار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر کی شرح میں کمی کی پیش گوئی خوش آئند ہے اور اس سے معاشی استحکام میں بہتری آئے گی۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ حال ہی میں عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کر دیا ہے، جس سے پاکستان کے مثبت معاشی اشاریوں کا اعتراف ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت کی معاشی اصلاحات کی پالیسی اور رائیٹ سائزنگ پالیسی پر بھی تیزی سے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا، جس سے معیشت پر جلد مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
وزیرِ اعظم نے وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کو بلوں کی مدد میں فراہم کیے جانے والے ریلیف کا ذکر کیا، اور کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے معاشی اور مالیاتی ٹیم کی محنت سے معیشت کو استحکام کی جانب بڑھا رہی ہے۔
واضح رہے کہ وزارت خزانہ کے مطابق اگست میں مہنگائی 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، اور ستمبر میں مزید کمی کی توقع ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے 28 اگست کو پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو سی اے اے 3 سے سی اے اے 2 کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری آئی ہے اور ڈیفالٹ رسک کم ہوگیا ہے۔