(مہارت نیوز) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی کال پر متنازعہ پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا، جس کے دوران پریس کلبز پر سیاہ پرچم لہرائے گئے اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری کی شرجیل میمن پر تنقید، سندھ حکومت کی کارکردگی پر سوال
لاہور پریس کلب میں ہونے والے مظاہرے کی قیادت پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل اور لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کی۔ احتجاج میں سی پی این ای، ایمنڈ، پی بی اے، اے پی این ایس، پی یوجے، میڈیا ورکرز آرگنائزیشن اور دیگر صحافتی تنظیموں کے نمائندگان شریک ہوئے۔
ارشد انصاری نے خطاب میں کہا کہ پیکا کالا قانون ہے، جس کا مقصد صحافیوں کی آزادی کو سلب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب صدر پاکستان نے اس قانون پر دستخط کیے، اس وقت بھٹو اور بے نظیر کی روحیں تڑپ رہی ہوں گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے یہ قانون لاگو کیا تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دیگر صحافتی رہنماؤں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر قدغن عوام کی آواز دبانے کے مترادف ہے۔ لاہور پریس کلب کے سیکرٹری زاہد عابد نے کہا کہ حکومت اگر صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گی تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی طرح ملک کے مختلف شہروں میں بھی پریس کلبز کی قیادت میں یوم سیاہ منایا گیا۔ بہاولنگر، اوکاڑہ، ننکانہ، سرگودھا، خانیوال، خوشاب، جھنگ، قصور، وہاڑی، مظفرگڑھ، چنیوٹ، میانوالی، سیالکوٹ، لیہ اور ڈیرہ غازی خان سمیت کئی شہروں میں صحافیوں نے مظاہرے کیے اور پیکا ایکٹ کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
احتجاجی مظاہروں میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت مختلف صحافتی اداروں اور تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی اور حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر پیکا ایکٹ واپس نہ لیا گیا تو عدالتوں سے لے کر اسمبلیوں تک احتجاج کیا جائے گا اور بڑا مارچ اسلام آباد تک جائے گا۔