جوہری سائنسدانوں نے قیامت کی گھڑی کو آدھی رات کے 89 سیکنڈ قریب کر دیا

59 / 100 SEO Score

دنیا کے خاتمے کی نشاندہی کرنے والی قیامت کی گھڑی (Doomsday Clock) کو آدھی رات کے وقت کے اب تک کے سب سے قریب یعنی 89 سیکنڈ پر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے جوہری خطرات، جنگوں، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال، اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

چاہت فتح علی خان کا متھیرا کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ

پس منظر
یہ گھڑی 1947 میں دی بلیٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد تیار کی تھی تاکہ انسانیت کو یہ سمجھایا جا سکے کہ وہ دنیا کی تباہی کے کتنے قریب ہے۔

اہم وجوہات

جوہری خطرات

روس کی یوکرین پر جنگ نے جوہری تصادم کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

اسرائیل-غزہ تنازع اور ایران کے ساتھ علاقائی دشمنی مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہیں۔

شمالی کوریا کے مسلسل بیلسٹک میزائل تجربے اور چین کی تائیوان کے قریب فوجی نقل و حرکت نے خطرات میں مزید اضافہ کیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا بھر میں بڑھ رہے ہیں، لیکن ان سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کی کمی ہے۔

مصنوعی ذہانت (AI)

2024 میں مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال میں اضافے پر ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے۔ اگرچہ حکومتوں نے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن کئی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ AI کے غلط استعمال سے عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

بلیٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس کے چیئرمین کا بیان
ڈینئیل ہولز نے کہا کہ:
"قیامت کی گھڑی کو آدھی رات سے 89 سیکنڈ قبل سیٹ کرنا عالمی رہنماؤں کو خبردار کرنے کی کوشش ہے کہ ہم خطرناک حد تک تباہی کے قریب ہیں۔”

تشویشناک حالات

یوکرین جنگ، اسرائیل-غزہ تنازع، اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جیسے مسائل دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت اور دیگر نئی ٹیکنالوجیز کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کے خطرات نے بھی گھڑی کے وقت کو کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

نتیجہ
قیامت کی گھڑی کو مقرر کرنے کا مقصد عالمی رہنماؤں اور عوام کو ان خطرات سے آگاہ کرنا ہے جو انسانیت کی بقا کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کے متقاضی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے