سپریم کورٹ: عمران خان کی انتخابی دھاندلی درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

59 / 100 SEO Score

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے خلاف دائر درخواست پر وکیل کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے جواب میں تیاری کے لیے وقت دے دیا۔ سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے کی، جس کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے اہم ریمارکس دیے۔

ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کی بشریٰ بی بی کی چوری پر تنقید، بانی پی ٹی آئی کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا دعویٰ

اہم نکات

فارم 45 اور 47 کا فرق: جسٹس مندوخیل نے کہا کہ اگر دونوں فارم میں فرق ہے تو ایک صحیح اور دوسرا غلط ہوگا، اس معاملے کی مکمل انکوائری ضروری ہوگی۔

الیکشن کمیشن پر سوالات: عمران خان کے وکیل سے مکالمے میں جسٹس مندوخیل نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کو جانبدار سمجھا جاتا ہے تو متعلقہ فارم پر انحصار کرنا چاہیے۔

سابقہ انکوائری کا حوالہ: جسٹس مندوخیل نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی دھاندلی کے ایشوز کی انکوائری کے لیے آرڈیننس جاری کرنا پڑا تھا اور ہر حلقے کی علیحدہ انکوائری کرنا ہوتی ہے۔

وکیل کی جانب سے دلائل

وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں، لیکن عدالت میرٹ پر بات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو 8 فروری کو ہوا، اس کے اثرات آج تک جاری ہیں۔

عدالت کے ریمارکس

جسٹس مندوخیل نے وکیل کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا سے بلوچستان تک ہر انتخاب کو غلط کہنا درست نہیں۔ عدالت نے وکیل کو مہلت دی اور سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے