کراچی: ملیر ایکسپریس وے کا ادھورا منصوبہ افتتاح کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہے۔ غیر مکمل تعمیرات، حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی اور ٹریفک کنٹرول کی عدم دستیابی نے مسافروں کی سلامتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
تعمیراتی کام جاری، خطرات برقرار
ایکسپریس وے کے کئی مقامات پر تعمیراتی مواد، مشینری اور ورکرز موجود ہیں۔ اس کے باوجود منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا، جس سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
غیر محفوظ سفری حالات
موٹر سائیکل سواروں کی بھرمار: پابندی کے باوجود ہائی وے سب سے زیادہ موٹر سائیکل سواروں کے زیرِ استعمال ہے۔
منچلوں کی چہل پہل: شاہ فیصل کالونی ٹول پلازہ کے قریب کرکٹ میچز اور درمیانی دیوار پر بیٹھے افراد کی موجودگی نے سکیورٹی انتظامات کی قلعی کھول دی ہے۔
پیدل افراد کی کراسنگ: ہائی وے پر پیدل افراد کی نقل و حرکت روکنے کا کوئی انتظام نہیں۔
ناقص رہنمائی اور ٹریفک کنٹرول
راستوں کی رہنمائی کے لیے کوئی ڈائریکشن بورڈز موجود نہیں۔
حد رفتار اور ٹریفک سائن بھی نصب نہیں کیے گئے۔
انٹرچینجز نامکمل ہیں، جس کے باعث گاڑیاں ون وے میں داخل ہو رہی ہیں۔
انتظامیہ کا مؤقف
ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ نے دعویٰ کیا کہ اہلکاروں کی باقاعدہ تعیناتی جلد کی جائے گی۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ایکسپریس وے کی سکیورٹی اور 24 گھنٹے پولیس پیٹرولنگ کا بندوبست کیا گیا ہے، جبکہ ریسکیو 1122 کا یونٹ بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔
عوامی ردعمل
شہریوں نے منصوبے کی ناقص پلاننگ اور غیر محفوظ افتتاح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات اور مکمل تعمیرات کے بغیر ایکسپریس وے کا افتتاح شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔