مہارت نیوز: بنگلہ دیشی پولیس نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے دوران قبضے میں لی گئی بندوقوں سمیت ہزاروں ہتھیاروں کو برآمد کرنے کے لیے ایک آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ٹیکساس میں فلسطینی نژاد بچی پر ڈبونے کی کوشش، خاتون پر فرد جرم عائد
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، منگل کو ختم ہونے والی اسلحہ سرنڈر کرنے کی مہم کے دوران 3 ہزار 700 سے زیادہ مختلف اقسام کے ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں نے بڑے پیمانے پر بے امنی پیدا کی تھی۔ شیخ حسینہ 5 اگست کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہو گئی تھیں، جبکہ پولیس نے مظاہروں کو روکنے کے لیے گولیاں چلائیں، جس کے بعد مظاہرین نے پولیس اسٹیشنز پر دھاوا بول کر وہاں موجود اسلحے پر قبضہ کر لیا۔
اب نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس عبوری حکومت کی قیادت کر رہے ہیں، لیکن 2 ہزار سے زائد ہتھیار، بشمول رائفلز، ہزاروں راؤنڈ گولیاں، آتش گیس کے سلنڈرز، اور اسٹن گرینیڈز ابھی تک غائب ہیں۔
ایک سینئر اہلکار انعام الحق ساگر نے بتایا کہ بے امنی کے دوران لوٹا گیا اسلحہ، جو ابھی تک مقررہ وقت پر جمع نہیں کرایا گیا، غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ اس مہم میں فوج، پولیس، پیراملٹری ریپڈ ایکشن بٹالین (REB)، اور انصار فورسز شامل ہیں۔
ڈھاکا کے ڈپٹی پولیس کمشنر عبیدالرحمٰن نے کہا کہ مظاہروں کو پرتشدد طریقے سے دبانے کے سلسلے میں دو سابق اعلیٰ پولیس افسران، چوہدری عبداللہ المامون اور شاہدالحق، کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان افسران پر قتل کے الزامات ہیں، تاہم ابھی تک ان پر باقاعدہ فرد جرم نہیں لگائی گئی۔
اقوام متحدہ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، شیخ حسینہ واجد کی معزولی کے دوران ہونے والے مظاہروں میں 600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، لیکن یہ تعداد ممکنہ طور پر کم ہو سکتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے کئی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔