مہارت نیوز: تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بلوچستان میں جاری مسائل اور ملک میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی درخواست کی ہے۔ تنظیم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنی انا سے باہر نکلے اور سنجیدگی سے بلوچستان کے حالات پر توجہ دے۔
فضل الرحمٰن کا چیف جسٹس کو خط، سودی نظام کے خلاف اپیلیں جلد نمٹانے کی اپیل
تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اتحادی جماعتوں نے بلوچستان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسد قیصر نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ حکومت کو پارلیمنٹ میں آ کر وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدہ ردعمل نہیں دیکھا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کے رکن اور سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل کے استعفے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، اور اگر سیاسی قیادت کی مایوسی اسی طرح جاری رہی تو پارلیمنٹ کی حیثیت پر سوال اٹھ سکتا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال سے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام محبت وطن قوتیں اور اسٹیک ہولڈرز بیٹھیں اور اس مسئلے کا حل تلاش کریں، اور اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے چیئرمین محمود خان اچکزئی ہیں۔
اسد قیصر نے بتایا کہ تحریک انصاف نے پورے ملک میں احتجاجی جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ دن کا تعین کرے جس دن ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔
لطیف کھوسہ نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے کسی کی مدت بڑھانے کی کوششیں بے فائدہ ہیں کیونکہ ان کے پاس قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ 8 ستمبر کو جلسہ ہر حال میں ہوگا اور اگر انتظامیہ اس میں رکاوٹ ڈالتی ہے تو تحریک اس کا خیال نہیں رکھے گی۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ تمام جماعتوں سے مشورے کے بعد کیا جائے گا تاکہ کوئی بھی جماعت غیر حاضر نہ ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر حکومت کانفرنس بلاتی ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو حکومت مخالف تحریک کی ضرورت نہیں پڑے گی، ورنہ وہ اس حکومت کو ہر قیمت پر ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔
رؤف حسن نے بھی 8 ستمبر کو جلسے کے انعقاد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انتظامیہ اس میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے، لیکن جلسہ ہر صورت میں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ 12 ستمبر کو کرک اور 22 ستمبر کو لاہور میں بھی جلسے ہوں گے، اور ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی جس میں ملک کو درپیش چیلنجز جیسے بلوچستان، دہشت گردی اور عدم استحکام پر لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔