فضل الرحمٰن کا چیف جسٹس کو خط، سودی نظام کے خلاف اپیلیں جلد نمٹانے کی اپیل

مہارت نیوز: مولانا فضل الرحمٰن، سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف)، نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر وفاقی شرعی عدالت کے سودی نظام کے خاتمے کے فیصلے پر اپیلوں کی فوری سماعت کی درخواست کی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے خط میں کہا کہ وفاقی شرعی عدالت نے گزشتہ سال مالیاتی نظام کو 5 سال میں سود سے پاک کرنے کا حکم دیا تھا، اور ان اپیلوں کی جلد سماعت سے حکومت کو سود سے پاک مالیاتی نظام کی تشکیل کے اقدامات اٹھانے میں مدد ملے گی۔

کراچی: ماں ہسپتال کے واش روم میں بچے کو جنم دے کر غائب، بچہ جاں بحق

خط میں مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ ختم نبوت پر چیف جسٹس کا مختصر فیصلہ قابل ستائش ہے، اور تفصیلی فیصلہ جلد جاری کرنے سے مسلمانان پاکستان کو مکمل اطمینان حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے 28 اپریل 2022 کو ملک میں رائج سودی نظام کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے حکومت کو دسمبر 2027 تک سود سے پاک معاشی نظام قائم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور چار نجی بینکوں نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔ اسٹیٹ بینک کی اپیل میں کہا گیا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت نے سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کیا ہے۔

پیشتر اس کے، وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خاتمے کی پہلی درخواست 30 جون 1990 کو دائر کی گئی تھی، اور اس مقدمے کی سماعت 2013 میں دوبارہ شروع ہوئی تھی، جس کے بعد 19 سال بعد فیصلہ سنایا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے