پاکستان سنگین آبی عدم تحفظ کا شکار، 80 فیصد آبادی صاف پانی سے محروم — اے ڈی بی کی رپورٹ میں سنگین خطرات اور ناکام حکمرانی کی نشاندہی

50 / 100 SEO Score

پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی کو مقدار اور معیار، دونوں حوالوں سے محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں، جس کے باعث ملک آبی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی تازہ فلیگ شپ رپورٹ ایشیئن واٹر ڈیولپمنٹ آؤٹ لک (اے ڈی ڈبلیو او) کے مطابق گزشتہ 12 برس میں معمولی بہتری تو دیکھنے میں آئی، مگر کمزور حکمرانی، ناقص نفاذ اور بڑھتے موسمی خطرات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

یوٹیوبر ڈکی بھائی کا سنگین الزامات پر مبنی بیان: این سی سی آئی اے حراست میں تشدد، بھاری رشوت طلبی اور کرپشن کے دعوے

آبی وسائل پر شدید دباؤ

رپورٹ کے مطابق آبادی میں بے تحاشہ اضافہ، موسمیاتی تغیرات، آبی ذخائر کا کم ہونا، بے ترتیب مون سون، برفانی پگھلاؤ اور بار بار آنے والے سیلاب ملک کے پانی کے نظام پر مستقل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال اور آرسینک آلودگی نے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔

آبی وسائل کی دستیابی میں خوفناک کمی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1972 میں 3500 مکعب میٹر تھی، جو 2020 تک گھٹ کر صرف 1100 مکعب میٹر رہ گئی۔ دیہی علاقوں میں ناقص سروس ماڈلز، کمزور نگرانی اور آلودگی نے گھریلو پانی کے تحفظ کو مزید متاثر کیا ہے۔

شہری و ماحولیاتی پانی کی صورتحال

شہری آبی تحفظ میں معمولی بہتری کے باوجود بڑھتی ہوئی طلب، گندے پانی کا بغیر علاج اخراج اور اربن فلڈنگ نے صورتحال خراب کر رکھی ہے۔
ماحولیاتی آبی تحفظ میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی، جہاں صنعتی فضلہ، آبادی میں تیزی سے اضافہ اور آلودہ نکاسی کے باعث دریاؤں، دلدلی علاقوں اور ساحلی ماحولیات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

پانی سے جڑی آفات اور خطرات

اے ڈی بی کے مطابق 2022 کے سیلاب نے ملک کو بدترین آبی آفت سے دوچار کیا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ اگرچہ ابتدائی وارننگ سسٹم بہتر ہوئے ہیں، مگر لچکدار ڈھانچے میں سرمایہ کاری اب بھی ناکافی ہے۔

حکمرانی کا بحران اور نفاذ کا خلا

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی 2018 کی قومی پانی پالیسی قابلِ تعریف ہونے کے باوجود، منصوبہ بندی اور نفاذ کے درمیان وسیع خلا اس کے اثرات محدود کر رہا ہے۔
ادارہ جاتی بکھراؤ، کمزور ہم آہنگی، ناکافی سرمایہ کاری اور تکنیکی صلاحیتوں کی کمی بھی بڑے چیلنجز ہیں۔

تجاویز اور ضروری اقدامات

اے ڈی بی نے سفارش کی ہے کہ:

نیشنل واٹر کونسل کو فوری فعال کیا جائے،

مؤثر پانی استعمال کے لیے والومیٹرک پرائسنگ متعارف کرائی جائے،

صنفی، سماجی اور علاقائی شمولیت کو فیصلوں میں شامل کیا جائے،

ایک خودمختار واٹر کوالٹی اتھارٹی قائم کی جائے،

ماحولیاتی قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے۔

واش فنڈنگ میں اضافہ مگر ضروریات کہیں زیادہ

رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2023 تک WASH فنڈنگ میں 152 فیصد اضافہ ہوا، تاہم پاکستان اب بھی پائیدار ترقی کے اہداف (SDG 6.1 اور 6.2) پورے کرنے کے لیے مطلوبہ 12.3 ارب ڈالر سے بہت پیچھے ہے۔ اگر ادارہ جاتی ڈھانچے مضبوط نہ کیے گئے تو دیہی علاقوں میں ہونے والی بہتری بھی غیر مستقل رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے