اسلام آباد — حکومت کے بڑھتے دباؤ اور پارلیمانی کارروائی کے ممکنہ بائیکاٹ کی پی ٹی آئی کی وارننگ کے بعد، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایک بار پھر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ثالثی کی پیشکش دہرا دی ہے۔
پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی ہے، جنوبی ایشیا سنگین چیلنجز سے دوچار ہے: اسحاق ڈار
پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے خطاب کا جواب دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ “بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے”۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشاورت کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ وہ حکومت سے بھی اس معاملے پر گفتگو کریں گے۔
ایاز صادق نے ایوان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اداروں پر تنقید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ “فوج سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف بھی لڑ رہی ہے۔ اختلافات کے باوجود میں آج بھی مفاہمت کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہوں”۔
پی ٹی آئی کا سخت مؤقف: “مائنس ون قابلِ قبول نہیں”
اس سے قبل ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایوان میں بیٹھنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ:
“مائنس ون فارمولا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسی کسی کوشش پر پی ٹی آئی کے تمام ارکان اجتماعی استعفیٰ دے دیں گے۔”
گوہر علی خان نے کہا کہ اگر ایک بڑی سیاسی جماعت اور ریاستی اداروں کے درمیان تصادم ہوا تو اس سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں انتشار نہیں، برداشت ضروری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا:
“کچھ پریس کانفرنسیں بہت مایوس کن تھیں، عمران خان جمہوریت کے تسلسل کی ضمانت ہیں، قومی سلامتی کا خطرہ نہیں۔”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی ختم کی جائے اور اسپیکر قومی اسمبلی کو کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
اقتصادی صورتحال: ٹیکس ٹو جی ڈی پی دس سال بعد دو ہندسوں میں
ایوان کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کے اقدامات کے باعث ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
اہم نکات:
پچھلے سال ٹیکس وصولی 117 کھرب روپے رہی (27 فیصد اضافہ)
انکم ٹیکس میں 28٪ اضافہ
سیلز ٹیکس میں 26٪
ایکسائز ڈیوٹی میں 33٪
کسٹم ڈیوٹی میں 16٪ اضافہ
وزیر خزانہ نے بتایا کہ چینی اور سیمنٹ شعبوں کی پیداوار کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا ہے، جس سے:
شوگر انڈسٹری سے 7 ارب روپے اضافی ریونیو
سیمنٹ سیکٹر سے 10 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو تمباکو اور مشروبات سمیت دیگر شعبوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔
قومی اسمبلی کی قانون سازی
ایوان نے درج ذیل بل منظور کر لیے:
نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل 2025
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2025
جبکہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) ترمیمی بل 2025 بھی پیش کر دیا گیا۔