نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا بھرپور حامی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق عالمی امن و استحکام کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ وہ ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔
گلشن اقبال میں کھلے مین ہول نے 3 سالہ ابراہیم کی جان لے لی، دل خراش ویڈیو سامنے آگئی
اسحاق ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو موسمیاتی تبدیلی، غذائی قلت اور اقتصادی عدم استحکام جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ خطے میں بڑھتے درجہ حرارت اور بار بار آنے والے تباہ کن سیلابوں نے ملکی معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی پیچیدہ ہے، جبکہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا خطے کے امن کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا غذائی عدم تحفظ، توانائی کے بحران، غربت اور دیگر کئی چیلنجز سے نبردآزما ہے۔ توانائی کی کمی کے باعث خطے کا تیل اور گیس پر انحصار خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں 25 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں لیکن تیز رفتار موسمیاتی تبدیلیاں مقامی آبادی کی خوراک، رہن سہن اور ماحول کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو اپنے مسائل کے مستقل حل کے لیے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ مشترکہ خوشحالی کے لیے علاقائی روابط کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ بلاک پالیٹکس کی مخالفت کرتا آیا ہے اور یو این چارٹر کا مضبوط مؤید ہے۔ پاکستان عالمی امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر قائم رہے گا۔