کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب نجی ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے باہر کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والے 3 سالہ ابراہیم کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آگئی ہے۔ فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اسٹور کی دو سیڑھیاں اترنے کے بعد صرف چند قدم کے فاصلے پر مین ہول کھلا ہوا تھا، جہاں چلتے ہوئے ننھا ابراہیم اچانک گر گیا۔
آج کی دلہنیں خود کو ہیروئن سمجھنے لگی ہیں، نخرے بڑھ گئے ہیں: فضیلہ قاضی
فوٹیج کے مطابق حادثے کے وقت مین ہول کے اطراف کسی قسم کی حفاظتی علامت، رکاوٹ یا کور موجود نہیں تھا۔ بچے کے گرنے کے فوراً بعد اس کی والدہ چیختی ہوئی وہاں پہنچیں اور مدد کے لیے پکارنے لگیں، جبکہ آس پاس موجود لوگ نالے کے دہانے پر جمع ہو کر بچے کی تلاش میں لگ گئے۔
یاد رہے کہ اتوار کی رات ابراہیم اپنی والدہ کے ساتھ ڈیپارٹمنٹل اسٹور آیا تھا، جہاں یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا۔ بچے کی والدہ کی دلخراش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، جس نے شہریوں کو شدید غم اور غصے میں مبتلا کردیا۔
اہلِ خانہ اور علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مشینری منگوا کر تلاش کا عمل پوری رات جاری رکھا، تاہم کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ پیر کی صبح، حادثے کے تقریباً 14 گھنٹے بعد، علاقے کے ایک نوجوان نے ابراہیم کی لاش جائے حادثہ سے تقریباً ایک کلومیٹر دور نالے سے برآمد کرلی۔
واقعے نے شہری انتظامیہ کی غفلت، کھلے مین ہولز اور شہریوں کی جانوں کو لاحق خطرات پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔