سینئر اداکارہ فضیلہ قاضی نے کہا ہے کہ آج کل کی دلہنوں میں نخرے ضرورت سے زیادہ بڑھ گئے ہیں اور وہ ڈراموں کے اثر کے باعث خود کو ہیروئن سمجھنے لگی ہیں۔ وہ حال ہی میں مارننگ شو گڈ مارننگ پاکستان میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے معاشرتی رویوں اور بدلتے رجحانات پر کھل کر بات کی۔
پی سی بی کا لندن کے تاریخی لارڈز میں پی ایس ایل روڈ شو منعقد کرنے کا فیصلہ
فضیلہ قاضی کا کہنا تھا کہ میڈیا نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ شادی کے قریب پہنچنے والی اکثر لڑکیاں خود کو ڈرامے کی مرکزی ہیروئن کے طور پر تصور کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ڈرامے محض فینٹیسی پر مبنی ہوتے ہیں جن کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن نوجوان لڑکیاں انہی خیالی معیارات کو اپنا کر غیر حقیقی توقعات قائم کر لیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب دلہنیں اپنے آپ کو ہیروئن سمجھتی ہیں تو اس کا دباؤ نہ صرف ان پر بلکہ ان کے گھر والوں پر بھی بڑھ جاتا ہے، جس میں مہنگے لباس، مخصوص اسٹائل، پرفیکٹ میک اوور اور غیر ضروری تیاریاں شامل ہیں۔
فضیلہ قاضی نے مزید کہا کہ "یہ میرا دن ہے” کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ شادی کی اصل خوبصورتی اور اس کے مقصد کو پسِ منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق غیر ضروری رسومات اور دکھاوے کی تیاریاں نہ صرف شادی کے دن کی اہمیت کو کم کرتی ہیں بلکہ کبھی کبھار دو خاندانوں کے درمیان پیدا ہونے والے تعلقات کو بھی متاثر کر دیتی ہیں، جو برسوں تک تلخی کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ شادی کے دن کو اس کے حقیقی مقصد کے تحت منایا جانا چاہیے اور فضول رسموں سے دور رہ کر سادگی اور اصل اقدار کو ترجیح دینی چاہیے۔
آج کی دلہنیں خود کو ہیروئن سمجھنے لگی ہیں، نخرے بڑھ گئے ہیں: فضیلہ قاضی
سینئر اداکارہ فضیلہ قاضی نے کہا ہے کہ آج کل کی دلہنوں میں نخرے ضرورت سے زیادہ بڑھ گئے ہیں اور وہ ڈراموں کے اثر کے باعث خود کو ہیروئن سمجھنے لگی ہیں۔ وہ حال ہی میں مارننگ شو گڈ مارننگ پاکستان میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے معاشرتی رویوں اور بدلتے رجحانات پر کھل کر بات کی۔
پی سی بی کا لندن کے تاریخی لارڈز میں پی ایس ایل روڈ شو منعقد کرنے کا فیصلہ
فضیلہ قاضی کا کہنا تھا کہ میڈیا نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ شادی کے قریب پہنچنے والی اکثر لڑکیاں خود کو ڈرامے کی مرکزی ہیروئن کے طور پر تصور کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ڈرامے محض فینٹیسی پر مبنی ہوتے ہیں جن کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن نوجوان لڑکیاں انہی خیالی معیارات کو اپنا کر غیر حقیقی توقعات قائم کر لیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب دلہنیں اپنے آپ کو ہیروئن سمجھتی ہیں تو اس کا دباؤ نہ صرف ان پر بلکہ ان کے گھر والوں پر بھی بڑھ جاتا ہے، جس میں مہنگے لباس، مخصوص اسٹائل، پرفیکٹ میک اوور اور غیر ضروری تیاریاں شامل ہیں۔
فضیلہ قاضی نے مزید کہا کہ "یہ میرا دن ہے” کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ شادی کی اصل خوبصورتی اور اس کے مقصد کو پسِ منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق غیر ضروری رسومات اور دکھاوے کی تیاریاں نہ صرف شادی کے دن کی اہمیت کو کم کرتی ہیں بلکہ کبھی کبھار دو خاندانوں کے درمیان پیدا ہونے والے تعلقات کو بھی متاثر کر دیتی ہیں، جو برسوں تک تلخی کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ شادی کے دن کو اس کے حقیقی مقصد کے تحت منایا جانا چاہیے اور فضول رسموں سے دور رہ کر سادگی اور اصل اقدار کو ترجیح دینی چاہیے۔