وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کے تین صوبوں سے غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کا عمل تیز کردیا گیا ہے، تاہم خیبرپختونخوا کی صورتحال مختلف ہے جہاں وہ کیمپ اب بھی فعال ہیں جنہیں وفاق نے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔
کراچی میں رینجرز کی کارروائی؛ ڈکیتی اور منشیات فروشی میں ملوث گینگ کے 4 ملزمان گرفتار
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے بتایا کہ ایف سی ہیڈکوارٹر اور اسلام آباد میں ہونے والے حملوں میں افغان شامل تھے اور ایسے حالات کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس ہفتے سے تمام ایس ایچ اوز کو ہدایت دی جارہی ہے کہ غیرقانونی افغانوں کو تلاش کرکے واپس بھیجنے کی ذمہ داری وہ خود پوری کریں۔
محسن نقوی نے کہا کہ اب تک 11 لاکھ افغان باشندوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ "تمام غیرقانونی افغان عزت کے ساتھ واپس چلے جائیں، جسے واپس بھیجا گیا اور وہ دوبارہ آیا تو اسے سزا دی جائے گی۔ آپ ہمارے مہمان تھے مگر قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔”
انہوں نے مسافروں کی آف لوڈنگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایجنٹ مافیا جعلی ویزوں کے ذریعے لوگوں کو بھیجنے کی کوشش کررہا ہے۔ "اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک شخص کو آف لوڈ کیا گیا جو ڈرائیور کے ویزے پر سعودی عرب جا رہا تھا مگر اسے گاڑی چلانی تک نہیں آتی تھی۔” وزیرداخلہ نے واضح کیا کہ ایف آئی اے میں سب فرشتے نہیں، لیکن ہر چیز کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ "حقیقی روزگار اور اصلی ویزے پر جائیں، ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔”
محسن نقوی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو ضرور سامنے لائے، لیکن بغیر ثبوت کسی پر الزام لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فیک نیوز کے ذریعے ملک میں افرا تفری پھیلانا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ "بطور صحافی میں آزادی اظہار کا حامی ہوں مگر سوشل میڈیا پر بہت سی چیزیں غلط انداز میں پھیلائی جارہی ہیں۔”