سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی اہلیہ نورین اسلم نے کہا ہے کہ اگر آنے والی بولی وڈ فلم دھرندر میں ان کے شوہر کے کردار کو منفی رنگ دیا گیا تو وہ فلم کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی۔
ٹیسٹ کی تلخ ناکامی کے بعد بھارتی ٹیم کی ون ڈے میں نئی شروعات کی تیاری، کے ایل راہول پُراعتماد
بولی وڈ فلم دھرندر کو آئندہ ماہ دسمبر میں ریلیز کیا جائے گا، جس میں سنجے دت سندھ پولیس کے بہادر افسر چوہدری اسلم کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم میں ونود کھنہ کو کراچی کے علاقے لیاری کے بدنام ڈاکو رحمٰن ڈکیت کے روپ میں دکھایا گیا ہے، جب کہ رنویر سنگھ مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کے کردار میں نظر آئیں گے۔
فلم کے ٹریلر کے اجرا کے بعد نورین اسلم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح کیا کہ وہ کسی صورت اس فلم میں اپنے شوہر کی غلط یا منفی تصویر کشی برداشت نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہدری اسلم نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور رحمٰن ڈکیت کو انکاؤنٹر میں ہلاک کیا، ان کا کردار شجاعت کی علامت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شوہر کی شہادت کے وقت ان کا سب سے چھوٹا بیٹا صرف آٹھ سال کا تھا اور والد کی موت کی خبر سن کر وہ بے ہوش ہوگیا تھا۔ نورین اسلم کے مطابق چوہدری اسلم نے جس دلیری سے کالعدم تنظیموں کا مقابلہ کیا، اس کی مثال آج تک کوئی پولیس افسر پیش نہیں کر سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ شوہر کی زندگی میں گھریلو خاتون تھیں مگر ان کی شہادت کے بعد ’’لاوا‘‘ بن کر کھڑی ہوگئیں۔ ’’میرے شوہر کی بہادری پوری دنیا مانتی ہے، چند لوگوں کی منفی رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔‘‘
نورین اسلم نے فلم کے ٹریلر میں شامل ایک نامناسب ڈائیلاگ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’جن اور شیطان کے ملاپ سے چوہدری اسلم پیدا ہوئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ جملہ نہ صرف شہید کی توہین ہے بلکہ ان کی والدہ جیسی نیک خاتون کو نشانہ بناتا ہے۔
انہوں نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر فلم میں چوہدری اسلم کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا تو وہ قانونی راستہ اختیار کریں گی، ’’میں ان کی وارث ہوں اور کسی کو ان کی عزت مجروح کرنے نہیں دوں گی۔‘‘