گیس قیمتوں میں کمی کا دعویٰ غلط ثابت: اوگرا نے مجموعی طور پر اضافہ منظور کر لیا

55 / 100 SEO Score

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری اعلامیے میں گیس کی قیمتوں میں ’’اوسطاً کمی‘‘ کے دعوے کے برعکس حقیقت سامنے آگئی ہے، اور دراصل گیس کی مجموعی قیمتوں میں اضافہ منظور کیا گیا ہے۔

نوشین شاہ: قرآن کا ترجمہ سنتی ہوں تاکہ سمجھ سکوں اللہ ہم سے کیا کہتا ہے

اعداد و شمار کے مطابق اوگرا نے رواں مالی سال کے لیے مجموعی طور پر 7.14 فیصد تک گیس مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے قیمت میں 118 روپے 47 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 1777 روپے 02 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہوگی۔ یہ اضافہ 7.14 فیصد بنتا ہے۔

اسی طرح سوئی ناردرن کے لیے 4.89 فیصد اضافہ منظور کرتے ہوئے قیمت میں 86 روپے 30 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کمپنی کی نئی قیمت 1852 روپے 80 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو جائے گی۔

اوگرا نے سابقہ شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے گیس کمپنیوں کے حق میں 60 ارب 88 کروڑ روپے کی ایڈجسٹمنٹ کی بھی اجازت دے دی ہے۔

اس کے باوجود اوگرا نے اپنے اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں اوسطاً 8 فیصد تک کمی کی منظوری دی گئی ہے اور یہی فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کیا گیا۔ سوئی گیس کمپنیوں نے قیمت میں 28.62 فیصد تک اضافے کی درخواست کی تھی۔

اعلامیے کے مطابق اوگرا نے سوئی سدرن کے لیے اوسطاً 8 فیصد کمی اور سوئی ناردرن کے لیے اوسطاً 3 فیصد کمی کی منظوری ظاہر کی تھی، ساتھ ہی ایس این جی پی ایل کے لیے نئی قیمت 1804.08 روپے اور ایس ایس جی سی کے لیے 1549.41 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کا بتایا گیا تھا۔

مزید یہ کہ ایس ایس جی سی نے اپنی درخواست میں گیس قیمتوں میں 22 فیصد جب کہ ایس این جی پی ایل نے 28.62 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے